پاکستانیوں کے لیے ایک اور افسوسناک خبر۔۔!! پاک فوج کے 2 افسر شہید ہوگئے

کراچی ( نیوز ڈیسک) گزشتہ روز لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے ایئر بس320 میں دیگر مسافروں کے ہمراہ پاک فوج کے 2 افسران بھی سوار تھے جو کہ شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والے پاک فوج کے افسروں میں میجر شہریار اور لیفٹیننٹ بالاچ میر شامل تھے۔میجر شہریار کا تعلق پنجگور کے علاقے سے تھا جو کہ اپنے اہل خانہ کے

ہمراہ لاہور سے کراچی جا رہے تھے میجر شہریار سابق سینیٹر واجہ حسین بلوچ کے نواسے اور بی این پی رہنما جہانزیب بلوچ کے بھانجے تھے۔لیفٹیننٹ بالاچ میر کی رہائش گاہ کراچی کے علاقے گلشن حدید میں ہے۔ رشتہ داروں اور عزیزو اقارب بڑی تعداد میں ان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں دیگر مسافروں کے ہمراہ پاک فوج کے سیکنڈ لیفٹیننٹ حمزہ یوسف بھی سوار تھے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے سیکنڈ لیفٹیننٹ حمزہ یوسف بھی بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔حمزہ پاس آوٹ ہونے کے بعد پہلی بار عید منانے کراچی اپنے گھر جارہے تھے۔ دوسری جانب گزشتہ روز حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو چلانے والے پائلٹ کیپٹن سجاد گل کے والد کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گھر سے روانہ ہونے سے قبل کیپٹن سجاد گل نے قرآن پاک کی تلاوت تھی۔مجھے پیسے بھی ہے اور کہا کہ بچوں اور میری بیوی کو عیدی دینا۔جس پر میں نے کہا کہ تم نے پانچ بجے آ جانا ہے خود ہی عیدی دے دینا۔تو بیٹے نے کہا کہ نہیں بس آپ انہیں یہ عیدی دے دینا۔بیٹا دوسری بار دوبارہ واپس آیا اور کہا کہ 5000 والدہ کو بھی دے دینا میں واپس آکر آپ کو دوں گا۔میں نے کہا کہ بیٹا یہ کیا بات ہوئی تو اس نے کہا بس آپ میری طرف سے والدہ کو عیدی دے دینا۔بتایا گیا ہے کہ کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے بدقسمت طیارے کا کپتان سجاد گل انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھا، سجاد گل کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کا تجربہ تھا، جبکہ اے 320ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔جہاز کے کپتان کا 17 ہزار گھنٹے سے زائد فلائٹ کرنے کا تجربہ ہے، جس میں پی آئی اے کے طیارے ایئربس320 پرتقریباً 7ہزار گھنٹے فلائٹ کی ہے۔ گزشتہ 5 سال سے اے 320 ایئربس جہاز ہی اڑا رہے تھے۔ پائلٹ سجاد گل پاکستان انٹرنیشنل لائن کے انتہائی تجربہ کار کپتان مجھے جاتے تھے، اے 320 ایئربس چلانے میں ان کا کوئی ثانی پائلٹ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید طیارہ کپتان کے اس وقت کنٹرول میں نہیں رہا، جب ان کے پاس بالکل بچنے کا مارجن ہی نہیں تھا۔کیونکہ طیارہ جس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس کو فنی خرابی اور دونوں انجن فیل ہونے کے بعد بھی گلائیڈ کیا جاسکتا، لیکن شاید طیارہ آبادی کے اس قدر اوپر تھا کہ کپتان کو آبادی سے تھوڑا دور لے جانے کا بھی موقع نہیں ملا۔ پائلٹ سجاد گل کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ڈیفنس زیڈ بلاک کے رہائشی تھے۔ مرحوم کیپٹن نے سوگواران میں بیوی اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹن کے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ رہائشگاہ غم سے نڈھال ہوگئے۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے طیارے سے متعلق بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی۔