کراچی طیارہ حادثہ۔۔!! ہلاکتوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ، ملک کی فضا سوگوار ہوگئی

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی طیارہ حادثے میں 97 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پی آئی اے کے طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے میں صرف 2 افراد محفوظ رہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے طیارے میں موجود تقریباََ 97 فیصد

افراد لقمہ اجل بن گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زندہ بچ جانے والوں کی تعداد صرف 2 ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد میں سے ابھی تک صرف 19 میتوں کی شناخت کی جا سکی ہے جبکہ باقی میتیں بھی شناخت کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی جائیں گی۔اس ضمن میں نادرا کی ٹیکنیکل ٹیم طیارہ حادثہ میں جاں بحق مسافروں کی انگوٹھوں کے ذریعے شناخت کے لیے کراچی پہنچ چکی ہے۔ جمعہ کو نادرا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جاں بحق افراد کی زیادہ تر تعداد جھلس جانے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہے جن میں سے تین جاں بحق افراد کے موقع پر انگوٹھوں کے نشان لئے گئے،ان تین میں سے دو کو نادرا نے شناخت کر لیا۔خبر رہے کہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب جمعہ کی دوپہر سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس میں 107 افراد سوار تھے جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ ایئربس 320 ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ سے قبل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ابتدائی طور پر یہ پتا چل سکا تھا کہ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی

دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا جس کے بعد طیارہ ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پائلٹ طیارے کو لینڈنگ کی ناکام کوشش کے بعد دوبارہ فضاء میں لے گیا اور چکر لگانے کے بعد دوبارہ لینڈنگ کے لیے واپس آیا، تاہم اس موقع پر طیارے کے دونوں انجن فیل ہو گئے اور طیارہ ایئرپورٹ کے قریب ہی آبادی میں گر کر تباہ ہو گیا۔طیارہ حادثے سے متعلق تازہ اطلاعات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ پندرہ ناٹیکل مائل اپروچ پوائنٹ پرتھا جس پر ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاورنے طیارے کے کپتان کو خبرادر کیا کہ آپ کی بلندی زیادہ ہے، اس کو کم کریں۔ ذرائع کے مطابق عام طور پر پانچ ہزار ناٹیکل مائل پر لینڈنگ اپروچ ہونی چاہیے لیکن حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مطلوبہ لمٹ سے زیادہ اونچائی پر تھا جس پرکنٹرول ٹاور کپتان کو بار بار ہدایات جاری کرتا رہا کہ آپ ضرورت سے زیادہ بلندی پر ہیں، بلندی کو کم کر لیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ دس ہزار فٹ بلندی پر تھا، ٹریفک کنٹرول کی جانب سے کپتان کو بلندی میں کمی کرنی کی بار بار ہدایات جاری ہوتی رہیں، جس پر طیارے کے کپتان نے کنٹرول ٹاور کو کہا کہ میں اپنی اسپیڈ مینج کر لوں گا.