پی آئی اے طیارہ حادثہ ۔۔!! وزیر اعظم اور آرمی چیف کا اظہارِ افسوس، جنرل قمر جاوید باجو نے پاک فوج کو بڑا حکم دے دیا

راولپنڈی (نیوز ڈیسک ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کو ریسکیو کے کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کا حکم دے دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی آئی اے کے افسوسناک طیارہ حادثے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے

ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی ظاہر کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاک فوج کو ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کاطیارہ گرنے پردل نہایت رنجیدہ اورمغموم ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سی ای او ارشد ملک جو کراچی روانہ ہوچکےہیں اورموقع پرموجود امدادی ٹیموں کےساتھ رابطے میں ہوں کہ فی الوقت یہ اولین ترجیح ہے۔ اس سانحے کی فوری تحقیقات کروائی جائیں گی.میری دعائیں اورتمام ترہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہیں۔ ترجمان پی آئی اے عبداللہ نے کہا ہے کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، فی الحال کسی طرح کی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ طیارہ حادثے سے متعلق وہ کچھ دیرمیں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔اسی طرح معلوم ہوا ہے کہ حادثے کی شکار پی آئی اے کی فلائٹ کے پائلٹ کا نام سجاد گل ہے۔ جبکہ دیگر عملے کے افراد میں عثمان احمد، فرید احمد چودھری ، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان ،

اور مدیحہ ارم شامل ہیں۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس 320 میں 98 افراد سوا تھے۔ جن میں 85 مسافر اور عملے کے 12 افراد شامل ہیں۔پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی ہے۔ طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ اور ماڈل کالونی کے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔جبکہ ہسپتالوں میں عملے کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں کیلئے جائے حادثہ پر پہنچ گئیں، جنہوں نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ طیارے میں لگی آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ مصروف ہے۔ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ تاکہ لوگوں کو طیارے کے ملبے کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔