اب راج کرے گی خلقت خدا۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے کسانوں کو 37ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان ،کسان خوشی سے اچھل پڑے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے زرعی شعبے کیلئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ زراعت میں فرٹیلائزرکی مد میں37 ارب کی سبسڈی، شرح سود میں کمی کرکے قرضوں پر9 ارب کی سبسڈی، کاٹن سیڈ 2.30 ارب، کاٹن پیسٹی سائیڈ 6 ارب اور لوکل ٹریکٹر مینوفیکچرنگ کیلئے اڑھائی ارب

کی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ کابینہ اجلاس میں ایئرپورٹس کے انتظامات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے متعلق غور کیا گیا۔ ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس سے متعلق غلام سرور کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے۔ کمیٹی ائیرپورٹس کی سروسز آؤٹ سورس کرنے سے متعلق سفارشات تیار کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں پیش کی جائیں گی۔اجلاس میں صوبوں کو منصفانہ پانی کی تقسیم سے متعلق فیصلے کیے گئے۔ کابینہ نے صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے ٹیلی میٹرز نصب کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح کابینہ میں ماضی میں کی گئی بھرتیوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔ آج 27 وزارتوں کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی، 18 اگست 2016ء تک 638 لوگ بھرتی کیے گئے۔ ابھی تک بھرتیوں کی رپورٹ نہ دینے والی وزارتوں کو ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے عید سے قبل میڈیا واجبات کی ادائیگی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ای سی سی کے 13مئی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی، ان فیصلوں میں موبائل ڈیوائس، کورونا وائرس کے باعث زرعی شعبے کیلئے 50 ارب کی سبسڈی، ایل اوسی پر بسنے والے مکینوں کیلئے خصوصی ریلیف پیکج شامل ہیں۔ آزاد جموں کشمیر کو وفاق کی جانب سے آدھی قیمت پرگندم کی فراہمی کے فیصلے کیے گئے۔ہماری معیشت کو اگر فوری کوئی شعبہ اٹھا سکتا ہے تو زراعت ہے۔ اسی لیے فرٹیلائزر کی مد میں37 ارب کی سبسڈی، شرح سود میں کمی کرکے قرضوں پر9 ارب کی سبسڈی دی گئی، کاٹن سیڈ کیلئے بھی 2.30 ارب رکھے گئے۔ کاٹن پیسٹی سائیڈ کیلئے 6 ارب رکھے گئے۔ لوکل ٹریکٹر کی مینوفیکچرنگ کیلئے اڑھائی ارب کی سبسڈی رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کل شہبازشریف نے ایک ٹاک شو میں حصہ لیا۔قوم نے پورے اعتماد سے وزیراعظم عمران خان کو منتخب کیا ہے، ہمارے دو سال پورے ہونے کو ہیں، ہم اپنی آئینی مدت پوری کریں گے، ہم ملک کو آگے یہ پیچھے لے جانے کی بات کررہے ہیں،عوام نے ان کو 2018ء کے الیکشن میں مسترد کردیا ہے۔ پوری قوم کورونا وباء سے لڑ رہی ہے،اس قسم کی باتیں زیب نہیں دیتیں، احتساب سے بچنے کیلئے نئے الیکشن کا سوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔ لگتا شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کا ٹائٹل پسند نہیں۔ یہ چاہتے ہیں الیکشن ہوں ، ہم جیت جائیں اور پھر احتساب نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نئے الیکشن کی بجائے شہزاد اکبر کے سوال کا جواب دیں۔