سیاسی خلش۔!!! مراد علی شاہ کا وزیراعظم عمران خان کو خط۔۔۔ کس وزیر کی کُھول کر مخالفت کر ڈالی؟ حکومتی ایوان ہل کر رہ گیا

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے قومی مالیاتی کمیشن میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت کی مخالفت کر دی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ جس میں انھوں نے این ایف سی میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ مشیر خزانہ کو این ایف سی میں شامل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، این ایف سی میں نامزدگی وزرائے اعلیٰ کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔ انھوں نے ایف این سی میں وفاقی سیکرٹری خزانہ کی شمولیت کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ مشیر خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت نہیں کر سکتے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے لیے ارکان کی نامزدگی آئین میں درج طریقہ کار کے خلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 160کے تحت نیا این ایف سی تشکیل دیا جائے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل وفاقی حکومت نے 10ویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل نو کی تھی جس پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔ این ایف سی کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان ہوں گے جب کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ، وفاقی سیکرٹری خزانہ اور مشیر خزانہ بھی کمیشن کے رکن ہوں گے۔ قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل نو میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی عدم موجودگی میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کمیشن کی صدارت کریں گے۔ یاد رہے قومی اسمبلی میں حکومت کے اتحادی رکن اسمبلی اسلم بھوتانی این ایف سی میں ممبر بلوچستان کے لیے جاوید جبار کے نام پر پہلے ہی اعتراض کر کے عدالت جانے کا اعلان کر چکےہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو قومی مالیاتی کمیشن کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت نیا این ایف سی تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ مشیر خزانہ کو این ایف سی میں شامل کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ مشیر خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کی صدارت نہیں کرسکتے جبکہ وفاقی سیکرٹری خزانہ کی کمیشن میں شمولیت بھی درست نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے لیے ارکان کی نامزدگی آئین میں درج طریقہ کار کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن میں نامزدگی وزرائےاعلیٰ کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔