بریکنگ نیوز:سندھ میں ایک دفعہ پھر سے رونقیں بحال ۔۔۔!!حکومت پاکستان نے سرکاری دفاتر سے متعلق بڑا حکم جاری کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ حکومت نے سرکاری دفاتر کھولنے سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا، پہلے مرحلے میں 9سرکاری محکموں اوران کےسیکریٹریٹ کھولے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف و زکوة، محکمہ انسانی حقوق، سرمایہ کاری ، صنعت وتجارت، آئی ٹی کے محکمے کل سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سوشل ویلفیئر، اقلیتی امور کے محکمے،

محکمہ یونیورسٹیز بورڈز اور ورکس سروسز بھی کل سے کھل جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد چیف سیکریٹری نے محکمے کھولنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، محکموں اور سیکریٹریٹ میں کورونا سے بچاؤ کی ایس او پی پرعمل کرنا ہو گا۔قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سندھ میں شاپنگ مالز کے علاوہ پیر سے تمام مارکیٹیں صبح 6 بجے سے شام 5بجے تک کیلئے کھلیں گی، مارکیٹیں ایس او پی کے تحت کھولی جائیں گی۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ایس او پی پر عمل درآمد کی ذمہ داری تاجروں پر ہوگی، سماجی فاصلے پر سختی اور خصوصی توجہ دینا ہوگی، اگر کیسز بڑھتے ہیں تو پھر مزید سخت فیصلے لینے پڑیں گے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مراد سعید نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا تے ہوئے کہا ہے کہ کراچی شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا پھر کہتے ہیں مجھ سے سوال نہ کریں۔ایک بیان میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا کہ فرزند زرداری اور سندھ حکومت سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں، سندھ حکومت انتظامی معاملات میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔مراد سعید نے کہاکہ سندھ کے ایک وزیر نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو راشن پہنچا دیا، دوسرے نے کہا 3 لاکھ، تیسرے نے کہا ساڑھے 5 لاکھ لوگوں کو راشن دیا۔ کسی کو معلوم نہیں راشن کے نام پر کروڑوں روپے کہاں گئے۔انہوں نے کہا کہ 550 ارب روپے کا حساب لیں تو آپ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں، سوال پوچھنے پر ٹی وی چینل کو گالیاں دینا شروع کر دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 550 ارب صحت پر لگتے تو کیا لاڑکانہ میں بچے کتے کے کاٹے سے مرتے، ہم کہتے ہیں لاڑکانہ اور سندھ کتوں کی زد میں ہیں تو آپ گالیاں دیتے ہیں، صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے آپ کو جواب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کی جان بچانے کے لیے وینٹی لیٹر کیوں نہیں دیا گیا، سندھ کے اسکولوں میں بچوں کے بجائے کتے اور گدھے کھڑے ہیں۔ نہ اسکول میں سہولتیں اور نہ ہسپتال میں انتظامات، 550 ارب کہاں خرچ کردیے؟مراد سعید نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مجھ سے سوال پوچھنے کی ہمت کون کریگا، بلاول کے والد نے بھی کہا تھا نیب کون ہوتا ہے جو مجھ سے سوال کرے، کیا آپ خود کو فرعون سمجھتے ہیں یا سندھ کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے؟انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا پھر کہتے ہیں مجھ سے سوال نہ کریں، ہم آپ کے غلام نہیں یا سندھ کابینہ میں نہیں جو آپ سے سوال نہ کریں، تھر کے بچوں کی اموات کے ذمہ دار آپ ہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگوں کو دھمکانے کی ایک ہی وجہ ہے پیسہ سندھ کی ترقی پر نہیں لگا، سندھ کی ترقی پر لگنے والا سارا پیسہ زرداری کے فیک اکاؤنٹ میں چلا گیا، سندھ میں راشن کا پیسہ غائب، گندم اور آٹا غائب، اسکولز میں فرنیچر غائب، اسپتالوں سے وینٹی لیٹرز غائب ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں 128 صفحات کی جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ لیں، سب کو پتہ چل جائے گا مراد علی شاہ زرداری کی کرپشن کا سہولت کار کیسے بنا۔