’’ میری 10 بھینسیں ہیں انکا دودھ بیچ کر اپنا گزارا کرتا ہوں۔۔‘‘ شہباز شریف اپنا خرچہ کیسے چلا رہے ہیں؟ نیب نے انہوں نے کیا جواب جمع کرایا؟ پورا پاکستان اپنا سَر پیٹنے پر مجبور

لاہور(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف کا 10بھینسوں کے دودھ سے اخراجات کرنے کا انکشاف ہوا ہے، انہوں نے نیب کو بتایا کہ میں اپنے اخراجات شریف ڈیری فارم کی آمدن سے کرتا ہوں، وہاں 10 بھینسیں ہیں، جن کے دودھ سے اپنے اخراجات چلا رہا ہوں۔ سینئر صحافی راؤف کلاسرا نے اپنے

تبصرے میں بتایا کہ شہبازشریف نے نیب میں پیشی کے دوران نیب کو اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات دیے۔شہبازشریف سے نیب نے سوال کیا کہ آپ کی بیگم نصرت شہباز کے 2002ء میں اثاثے صفر تھے، اب ان پراپرٹی 25 کروڑ کی ہے، شہبازشریف نے بیگم صاحبہ آزاد ہیں، آپ ان کو بلا کر انکوائری کرسکتے ہیں۔ نیب کے پوچھنے پر شہبازشریف نے نیب کو بتایا کہ جب خاندان میں جائیداد کی تقسیم ہوئی تو میرے حصے میں ایک شوگر ملز آئی تھی، جس پر نیب نے کہا کہ آپ نے پھر کیسے 14کمپنیاں مزید بنالیں؟ شہبازشریف نے کہا کہ یہ سوال سلمان شہباز سے پوچھیں۔شریف ڈیری فارم ہے، وہاں پر10بھینسیں ہیں، ان کے دودھ سے اخراجات چلا رہا ہوں، نیب نے پوچھا کیا 10بھینسوں کے دودھ سے آپ کوسال میں ایک کروڑ روپیہ منافع آرہا تھا، کہ جن سے آپ اپنے اخراجات چلارہے تھے۔ شہبازشریف نے کہا کہ میں اپنا ریکارڈ چیک کروں گا۔اسی طرح نیب نے پہلا سوال پوچھا کہ آپ نے لندن میں جو پراپرٹی خریدی تھی ، اس کے پیسے کہاں سے آئے، شہباز شریف نے کہا کہ یہ پراپرٹی میں نے 30 فیصد اپنے پیسے اور 70 فیصد قرض لے کر خریدی ۔انہوں نے 70فیصد پیسے جن میں اسحاق ڈار کی بہو نوازشریف کی صاحبزادی اسماء ڈار ، اور اجمل آسی سے قرضہ لیا، ایک عمران خان کے دوست ہیں، ان سے قرضہ لیا تھا۔یہ عمران خان کے دوست لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بھی لیتے ہیں۔ سیاستدانوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں۔نیب نے پوچھا یہ پیسے آپ نے لندن میں ٹرانسفر کیسے کیے؟ جس پر شہبازشریف نے کہا کہ یہ پیسے پاکستان سے ٹرانسفر نہیں کیے ، بلکہ لندن میں ہی انہوں نے قرضہ دیا تھا۔