کورونا مریضوں کیلئے ’’ ہوم آئیسولیشن ‘‘ کی گائیڈ لائنز جاری، درانیہ کتنا ہوگا؟ فیصلہ آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے لاک ڈائون میں نرمی کے ساتھ ہی کورونا کے مریضوں کو سیلف آئیسولیشن کی اجازت دے دی۔ ہوم آئیسولیشن کمیٹی کی اجازات کے بعد مریض گھر میں رہ سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے ہوم آئیسولیشن کی اجازت دے دی محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر

نے کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ اور ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی سفارشات پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق ہوم آئیسولیشن کے لئے عالمی ادارہ صحت کے ایس او پیز کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ صرف معمولی علامات والے مریضوں کو ہی ہوم آئیسولیشن میں رکھا جاسکے گا مریض کو متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی نگرانی میں ضروری سہولتوں سے مزین عمارت میں رکھا جائے گا۔ ہوٹلز، سکول بلڈنگز، مساجد، ہوسٹلز، کمیونٹی سنٹر اورضروری سہولیات سے مزین عمارت میں مریض کو رکھا جاسکے گا۔ جس عمارت میں مریض کو ہوم آئیسولیشن میں رکھا جائے گا اس بلڈنگ کو روزانہ ڈس انفیکشن کیا جائے گا۔ مریض ہوم آئیسولیشن والی بلڈنگ میں سالڈ ویسٹ کو گائیڈ لائن کے مطابق تلف کیا جائے گا۔ کسی ایسی عمارت میں ہوم آئیسولیشن نہیں کی جاسکے گی جہاں کولنگ اور ہیٹنگ سسٹم سے وائرس پھیلنے کااندیشہ ہو۔ ہوم آئیسولیشن کے مریض کو صرف ڈسپوزیبل برتنوں میں کھانا مہیا کیا جائے گا۔ اسطرح ہوم آئیسولیشن کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر نامزد کردہ ہوم آئیسولیشن کمیٹی دے گی۔ ہوم آئیسولیشن کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر یا ان کا نمائندہ ڈی ڈی او ہیلتھ، چیف آفیسر شامل ہوں گے ۔پاپولیشن ویلفیئر، لائیوسٹاک،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکارکوہوم آئیسولیشن کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کریں گے۔ہر اربن یونین کونسل میں 3کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، ہرکمیٹی میں ایک ڈاکٹر شامل ہوگا۔ جبکہ ہر دیہی یونین کونسل میں کمیٹی بنائی جائے گی،کمیٹی میں ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے۔ کمیٹی خاندان کے افراد کی تعداد کے مطابق ایک سے زیادہ مریضوں کو رکھنے کی گنجائش کا بھی جائزہ لے گی۔ ہوم آئیسولیشن کی اجازت سے پہلے متعلقہ خاندان کو طریقے کار اورایس او پیز سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔ ہوم آئیسولیشن میں موجود مریض اپنی کنڈیشن کے بارے میں روزانہ اطلاع کرنے کا پابند ہوگا۔ ہوم آئیسولیشن کے ہر مریض پر محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کی ہدایات پر عملدرآمد ضروری ہوگا جبکہ ہوم آئیسولیشن میں مریض کے لئے ٹیسٹنگ پروٹوکول کی پابندی بھی لازمی ہوگی – ہوم آئیسولیشن کا دورانیہ 10دن ہوگا اور اسے ختم کرنے کے لئے مریض کے 2 نیگٹیو کورونا ٹیسٹ ضروری ہوں گے۔ ہوم آئیسولیشن ختم ہونے پر دوسرا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے پر مزید 5دن کے بعد نیا ٹیسٹ کرایا جائے گا۔ جبکہ کورونا ٹیسٹ کی سہولت میسر نہ ہونے پر مریض کوعلامات ختم ہونے کے باوجود مزید 2ہفتے الگ رہنا ہوگا ۔