بریکنگ نیوز: گرفتاری کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کے حوالے سے ایک اور بڑی خبر

جہلم (ویب ڈیسک) جہلم پولیس نے انجینئر محمد علی مرزا کو مذہبی منافرت اور مختلف علمائے کرام کے خلاف شر انگیزی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا تاہم عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کردیا۔ تھانہ سٹی پولیس کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا مختلف علمائے کرام

کے خلاف مذہبی اشتعال انگیزی پھیلا رہے تھے۔ سٹی پولیس نے منگل کو اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو جیل منتقل کر دیا تھا۔ انجینئر محمد علی مرزا کے وکیل نے اسی دن سول کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی تھی جہاں بدھ کو سول کورٹ نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض انجینئر محمد علی مرزا کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا۔ انسانی مجموعی رویوں میں مذہب ایسی چیز ہے جس پر لوگ سب سے زیادہ جلدی اور سنگین ردعمل دیتے ہیں،منگل کے روز مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا کی ایک مقدمے کے نتیجےمیں گرفتاری سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا۔مقدمہ دفعہ153 اے کے تحت مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں موقف اپنایا گیا کہ انجینئر محمد علی مرزا نے دو سینئر مذہبی رہنماؤں ڈاکٹر طاہر القادری اور محمد الیاس قادری کے قتل کیلئے اکساتے ہوئے ان دونوں میں سے کسی ایک کو شہید کرنے کا کہا ہے۔ محمد علی مرزا نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان سے سارے پیروں کو ختم کیا جائے۔ طاہر القادری اور الیاس قادری کا مسئلہ بھی حل کیا جائے اور ان میں سے ایک قادری باقی رکھنے کیلئے کسی ایک کو شہید کر دیا جائے۔ محمد علی مرزا کی گرفتاری کی خبر کے بعد سماجی رابطوں کی متعدد ویب سائٹس پر عوام نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا صارفین نے کہا کے محمد علی مرزا کی گرفتاری موجودہ نظام کیخلاف بولنے کی سزا ہے۔ پاکستان میں ٹویٹر پر محمد علی مرزاکی رہائی کیلئے انجینئر محمد علی مرزا کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ اداکارحمزہ علی عباسی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ دوسروں کو دبانے والے مذہب کے ذمہ داروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔محمد علی مرزاکی گرفتاری ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کیا ہم اس کیخلاف خاموش رہیں گے؟ساتھ ہی ساتھ انہوں نے محمد علی مرزاکی رہائی کا بھی ٹرینڈ ڈال دیا۔