لندن میں مقیم نوازشریف کو بڑا دھچکا۔!!! سابق وزیراعظم کے رشتے داروں کے وارنٹ گرفتاری جاری

لندن (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کے کزنز کی زیر ملکیت کمپنیوں کے بینک ڈیفالٹر سے متعلق درخواستوں پر بیس مئی کو زاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔۔۔۔اگر پیش ناں ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے۔۔ لاہور کی بنکنگ کورٹ کے جج منیر احمد جوئیہ نے کیس کی سماعت کی۔۔۔۔

عدالت کو بتایا گیا کہ گزشتہ سماعت پر بھی نواز شریف کے کزنز میاں جاوید شفیع، طارق شفیع، زاہد شفیع اور میاں شاہد شفیع پیش نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔جس پر وکیل شاہد شفیع وغیرہ نے عدالت کو بتایا کہ کرونا وائرس کے باعث انکے موکلان پیش نہیں ہوسکتے بنکنگ عدالت نے نواز شریف کے پانچ کزنز کو 20 مئی کو طلب کر لیا۔۔عدالت،نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر پیش ناں ہوئے تو عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرئے گی، سابق وزیراعظم کے کزنوں کیخلاف مختلف بنکوں نے کشمیر شوگر ملز اور اتفاق شوگر ملز سے قرضوں کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ یاد رہے اس سے قبل سٹی42: سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے کزنوں کی ملکیت کمپنیاں بنکوں ڈیفالٹر ہونے کا معاملہ ، سابق وزیراعظم نواز شریف کے کزن جانب سے حاضری معافی کی درخواست منظور، عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے کزنوں کی ملکیت کمپنیاں بنکوں ڈیفالٹر ہونے کے کیس کی سماعت ہوئی ، سابق وزیراعظم نواز شریف کے کزن جانب سے حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی گئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔ بینکنگ عدالت کے جج منیر احمد جوئیہ نے درخواست پر سماعت کی عدالت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے کزن میاں جاوید شفیع، طارق شفیع، زاہد شفیع ، میاں شاہد شفیع کو آج طلب کررکھاہے مختلف بینکوں نے کشمیر شوگر مل اور اتفاق شوگر ملز کے لیے لیے گیا قرضوں کی واپسی کے لیے بنکوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے دائر درخواست میں سابق وزیر اعظم کے کزن میاں طارق شفیع، جاوید شفیع، اتفاق شوگر مل، کشمیر شوگر مل سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اتفاق شوگر ملزمل اور کشمیر ملز نے 700 ملین قرضہ حاصل کیا، بینک قرضے کی واپسی کے لیے متعدد نوٹسز جاری کیےگئے، بنکوں کا موقف اتفاق شوگر ملز اور کشمیر مل قرضہ واپس نہیں کررہی، عدالت قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دے۔