بریکنگ نیوز:کورونا وائرس کی وجہ سے ملک لمبا لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔!!!حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا عندیہ دے دیا، قوم خوشی سے نہال

ملتان (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک لمبا لاک ڈائون برداشت نہیں کر سکتا،کرونا وائرس کا چیلنج طویل ہو سکتا ہے ،ہمیں اپنی حکمت عملی اپنے ماحول کے مطابق بنانی پڑے گی، ہم نے کورونا ، غربت اور بھوک کے خلاف لڑائی لڑنی ہے،کورونا وائرس کا دنیا پر ٹریلین ڈالرز کا امپیکٹ ہوگا


جس کے اثرات دوسرے ملکوں پر بھی پڑیں گے، حکومت ایک بڑی تصویر کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہی ہے ،ہم اب اسمارٹ لاک ڈائون کی طرف جائیں گے تاکہ معیشت بھی چل سکے ،وزیر اعظم عمران خان کرونا کے حوالے سے ہر لمحے کی ڈویلپمنٹ سے با خبر ہیں، مشکل حالات میں ہمارے طبی عملے نے کورونا کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا،ڈاکٹرز کی ہمت اور جرآت کو سلام پیش کرتا ہوں، بھارت کو بدقسمتی سے کوئی احساس نہیں کہ دنیا کس مشکل سے گزر رہی ہے ، کورونا وائرس سے بھارتی رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مقبوضہ کشمیر میں ظلم جاری ہے، بھارتی فوجی گھروں میں گھس کر بے گناہ کشمیریوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی لاشیں بھی اہل خانہ کو واپس نہیں کرتے، عالمی برادری نوٹس لے، چین نے کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے پاکستان کی بہت مدد کی ہے۔وہ اتوار کے روز سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(سمز) میں کرونا وائرس پر کئے گئے اقدامات پر بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس فرنٹ لائن سولجرز کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے ملک کا جھنڈا بلند کئے ہوئے ہیں۔ وہ سمز کی انتظامیہ کو کیمپ جیل میں 100بستروں کا ہسپتال قائم کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس سمیت دیگر عملہ حقیقی مبارکباد کا مستحق ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا میں پاکستانی ڈاکٹرز کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، آج بھی دو پاکستانی ڈاکٹرز کی برطانیہ میں کورونا کے باعث شہادت ہوئی ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری معیشت لمبے دورانیے کا لاک ڈائون برداشت نہیں کرسکتی، ہمیں صورتحال کے مطابق حکمت عملی بنانی ہوگی کیوں کہ ہمیں کورونا کے ساتھ غربت کیخلاف بھی لڑنا ہوگا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا چیلنج لمبا ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے امریکہ میں بھی بحث جاری ہے کہ لاک ڈاوًن کس نوعیت کا ہوناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاوًن کے جہاں فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا کا مسئلہ ایک سال بھی چل سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معیشت لمبے عرصے کا لاک ڈائون برداشت کر سکتی ہے۔ ہمارے لیے یہ بھی چیلنج ہے کہ کیا ہمارے ملک کا نظام صحت بوجھ برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔ہماری حکومت ایک بڑی تصویر کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اب اسمارٹ لاک ڈائون کی طرف جائیں گے تاکہ معیشت بھی چل سکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت پل پل کے حالات سے باخبر ہے،حکومت نے نیک نیتی سے انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کے لئے لاک ڈائون کا فیصلہ کیا لیکن ہمیں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ معیشت کے چیلنج کا بھی سامنا ہے جس کو بیلنس کرنا مشکل ہے، امریکہ میں بحث چل رہی ہے کہ لاک ڈائون کا دورانیہ کیا ہونا چاہیے جس سے غریب عوام متاثر نہ ہو۔کورونا وائرس کے دبائوکے لحاظ سے سمارٹ لاک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایکسپو سنٹر میں مریضوں کے احتجاج کا وزیراعلی پنجاب نے نوٹس لیا ہے جس کے لئے تحقیقات ہوں گی۔پنجاب میں سب سے بڑا قرنطینہ سنٹر ملتان میں قائم کیا گیا جہاں تافتان کے 1250مریضوں کو 15دن رکھا گیا۔جس کے لئے ملتان کی انتظامیہ سول ڈیفنس سمیت دیگر ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔