پنجاب حکومت نے صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے کورونا ٹیسٹس کی تعداد کم کردی، مگر کیوں؟ وجہ جان کر آپ بھی پریشان ہو جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے کورونا ٹیسٹس کی تعداد کم کردی ہے۔ وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا ہے کہ پہلے ایران اور سعودی عرب سے آنے والے زائرین اور تبلیغی جماعت کے اراکین کے ٹیسٹس کیے جارہے تھے اس لیے ٹیسٹس کی تعداد زیادہ تھی، اب صرف ان

لوگوں کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جنکے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آتا ہے ان کے اہلِ خانہ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں لیکن اب سڑک پر کسی کو بھی روک کر اسکا ٹیسٹ تو نہیں کرسکتے۔ فی الحال روزانہ 3ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں لیکن اگلے چند دنوں میں ٹیسٹس کی تعداد بڑھا دیں گے۔دوسری جانب پنجاب میں خصوصی پروازوںسے واپس آنے والے بڑی تعداد میں کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔سیکرٹری صحت پنجاب کیپٹن (ر) محمد عثمان نے بتایا کہ خصوصی پروازوںسے آنے والی259 مریضوں میں کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔پنجاب کے مختلف شہروں میں 22 فلائٹس میں 2630 مسافر وطن واپس پہنچے،ان میں 11 فلائٹس لاہور ائیرپورٹ ،5 فلائٹس مسافروں کو ملتان لے کر پہنچی تھیں۔ اس کے علاوہ 6 فلائٹس مسافروں کو فیصل آباد ائیرپورٹ لے کر آئیں۔ کیپٹن (ر)عثمان نے بتایا کہ دبئی،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی فلائٹس سے کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں،لاہور ائیرپورٹ پر اترنے والی فلائٹس میں 154 مسافر کی رپورٹ مثبت آئی۔فیصل آباد ائیرپورٹ پر اترنے والی پروازوں میں 57 مسافر وں کی رپورٹ مثبت آئی،ملتان ائیرپورٹ پر اترنے والی پروازوں میں 48 مسافروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔سیکرٹری صحت کا مزید کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے افراد کا 48 سے 72 گھنٹے بعد ٹیسٹ کیا جاتا ہے، 48 گھنٹے تک بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے۔