کرونا وائرس سے جنگ ۔۔!! وزیراعظم عمران خان کل 4بجے کیا کرنے جارہے ہیں ؟ مستحق افراد کیلئے کپتان کا ایک اور بڑا قدم

لاہور(نیوز ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کل (جمعرات)سہ پہر چار بجے ”احساس ٹیلی تھون“میں شرکت کریں گے۔سرکاری ریڈیو کے مطابق ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کااہتمام کوروناوائرس کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے عطیات جمع کرنے کی غرض سے کیا گیاہے۔اس دوران جمع ہونے والی رقم کو ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے حفاظتی کٹس خریدنے اور مستحق افراد کی امداد کیلئے استعمال کیا جائے گا۔سینیٹر فیصل

جاوید خان نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں کوروناوائرس کی روک تھام کیلئے فنڈ جمع کرنے کیلئے اہم ٹیلی تھون نشریات کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حکومت اور نجی ٹی وی چینلز کوروناریلیف فنڈ کیلئے ٹیلی تھون نشریات شروع کریں گے جس میں اندرون اور بیرون ملک سے پاکستانی شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کیلئے آگے بڑھیں۔‎دوسری جانب چینی آٹا بحران کے حوالے سے رپورٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی باجوہ کو معطل کردیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسر سجاد مصطفی باجوہ کی معطلی کے احکامات جاری کردئیے گئے۔ذرائع کے مطابق سجاد باجوہ پر چینی اسکینڈل تحقیقات کے حوالے سے حساس معلومات وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار اور ایک نجی شخصیت کو دینے کا الزام ہے۔ خیال رہے کہ چینی و آٹا فورنزک رپورٹ 25 اپریل کو وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ذمہ داراوں کے خلاف بڑی کارروائی کا امکان ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سجاد مصطفی باجوہ پر کمپرومائز کرنے کا الزام ہے اور وزارت داخلہ معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سجاد مصطفی باجوہ کو ہٹانے کیلئے کمیشن کی جانب سے وزارت داخلہ کو مراسلہ موصول ہوا جس میں ان کو معطل کرنے کی وجہ ان کی کارکردگی بتائی گئی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ سجاد مصطفی باجوہ کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، اس معاملے پر وزارت داخلہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو بھی سجاد مصطفی باجوہ پرالزامات ہیں تحقیقات ہوں گی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی کے مطابق سجاد مصطفی باجوہ کا خسرو بختیار یا کسی دوسری بڑی شخصیت سے رابطہ نہیں تھا، ان کے خسرو بختیار سے رابطے کی بات کی تردید کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فارنزک ہورہا ہے تو اس قسم کی چیزیں سامنے آئیں گی۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔چینی بحران کی ایف آئی اے رپورٹ کا اب فورنزک کیا جارہا ہے جس کے بعد وزیراعظم نے 25 اپریل کو کارروائی کا اعلان کیا ہے جبکہ جہانگیر ترین نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کیا ہے اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کی وزارت تبدیل کردی گئی ہے۔