سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے مشیران اورمعاونین خصوصی کو زبردست سرپرائزدے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے مشیران اورمعاونین خصوصی کے خلاف درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے لگائے گئے اعتراض میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے متعلقہ فورم کا استعمال نہیں کیا اور درخواست میں عوامی مفاد سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ ایڈووکیٹ جہانگیرجدون نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں ملک امین اسلم خان،عبدالرزاق دائود حفیظ شیخ، عشرت حسین، ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان سمیت 14 معاونین خصوصی اور اور 5 مشیران کو بھی فریق بنایا گیا۔درخواست گزار نے استدعا کی گئی تھی کہ 5مشیران اور 14غیر منتخب معاونین خصوصی کی تقرریاں غیر آئینی قرار دی جائیں۔ وزیرِ اعظم کے 5 مشیران میں ملک امین اسلم، عبدالرزاق دائود، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر ظہیر الدین بابراعوان شامل ہیں۔عمران خان کے 14 معاونینِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مرزا شہزاد اکبر، محمد شہزاد ارباب، سید ذوالفقارعباس بخاری، شہزاد سید قاسم، علی نواز اعوان ، عثمان ڈار، ندیم افضل چن، سردار یار محمد رند، ڈاکٹر ظفر مرزا، فردوس عاشق اعوان، ندیم بابر، معید یوسف اور ڈاکٹر تانیہ شامل ہیں۔عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ 1973 کے رولز آف بزنس کا رول 4 (6) غیر آئینی قرار دیا جائے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کیلئے درخواست خارج کرتے ہوئے تاجروں کو جرمانہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں لاک ڈاؤن ہٹانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی گئی۔ چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کسی کو بھی عدالتی وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے انجم تاجران کے سیکریٹری نعیم میر کو 50 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنا یا ہٹانا ہے۔ چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کے باعث نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ جب ہزاروں لوگ زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے گے پھر تاجروں کو سمجھ آئے گی۔ گزشتہ روز بھی لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹرز کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا تھا۔