بریکنگ نیوز: یہ تو ہونا ہی تھا۔!!! 1ارب40 کروڑ ڈالر کے فنڈز جاری لیکن بیل آؤٹ پیکج پر مزید پیشروفت روک دی گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کو روکنے اور اس پر کورونا وائرس کے بعد نظر ثانی کرنے پر اتفاق کرلیا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر فنڈز کی نئی

منظوری کے بعد جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ اس موقع پر ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے ذریعے پاکستان کی مدد کرنے کا ایک مناسب ذریعہ ہے کیونکہ آؤٹ لک کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے موجودہ ای ایف ایف کو جاری کرنا مشکل ہے۔ واضح رہے کہ 3 جولائی کو آئی ایم ایفنے پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے 3 سال کے عرصے میں 6 ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا دابن سانچ نے کہا منظوری کے فورا بعد ہی آر ایف آئی کے تحت فنڈز فراہم کردیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے عملے کا خیال ہے کہ آر ایف آئی اضافی ڈونروں کی مالی اعانت حاصل کرے گا کیونکہ رواں سال 2 ارب ڈالر اور آر ایف آئی سمیت اگلے مالی سال میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا تخمینہ لگایا۔ آئی ایم ایف کے مطابق مجموعی طور پر مالی سال 21-2020 میں جی ڈی پی گروتھ میں 5 فیصد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی، توقع کی جارہی ہے کہ مینوفیکچرنگ، خاص طور پر ٹیکسٹائل، ٹرانسپورٹیشن اور سروسز کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے نجی شعبے کو قرضہ دینا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر مالی سال 2021 میں معیشت کے اشاریے مثبت ہوسکتے ہیں۔ ایم آئی ایف کے مطابق پبلک فنانسز انتہائی دباؤ میں آجائے گی اور مالی سال 2020 میں جی ڈی پی کے ابتدائی خسارے کی اوسط 2.9فیصد ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ پیش رفت محصولات میں 1.8 فیصد کمی کے تناظر میں ہوگی۔ آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی کہ اس سال قرض سے جی ڈی پی میں تنزلی کا تناسب 85 فیصد کے مقابلے میں 90 فیصد ہوجائے گا۔ آئی ایم ایف نے اعتراف کیا کہ کہ پروگراموں کی منظوری اور پہلی نظرثانی کے وقت عوامی قرض توقع سے زیادہ ہے لیکن وہ اب بھی نیچے کی طرف گامزن ہے۔ رپورٹ کے مطابق وائرس کی وجہ سے فوری بیلس آف پےمنٹ میں اضافے کا باعث بنا جبکہ تیل کی قیمتوں اور درآمد کی کمزور طلب نے موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ کو کچھ مدد فراہم کی۔ اس کی وجہ برآمدی نمو میں رکاوٹ بیرونی طلب میں کمی، خلیجی ممالک اور پورٹ فولیو فنڈز کے آوٹ فلو میں نقصان سے مالی سال 2020 اور مالی سال 2021 میں ترسیلات زر میں 5 ارب ڈالر کی کمی ہوگی۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگاری میں غیرمعمولی اضافہ ہوا لیکن تعمیراتی شعبے کے لیے پیکیج سے بے روزگاری کی شدت میں کمی آئے گی۔ واضح رہ کہ 2020 کے آخر تک شروع ہونے والے تعمیراتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل سے متعلق ڈیکلیئریشن دکھانا لازمی نہیں ہوگا۔ صحت کے شعبے میں ہنگامی اخراجات کے معیار کو یقینی بنانے سے متعلق آئی ایم ایف نے کہا حکام نے ضروری طبی سامان کی خریداری سے متعلق آڈٹ جنرل پاکستان سے کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور جس کے نتائج وزارت خزانہ کی ویب سائٹ شائع کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ اس اقدام سے کرپشن کے امکان کم ہوجائیں گے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا کہ شرح نمو میں کمی، پالیسی اور اصلاحات سے متعلق خطرات، پالیسی پر علمدرآمد کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے پروگرام کے مقاصد اور بیرونی مالی اعانت کی دستیابی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے موجودہ مفاہمت کی یادداشت کو اپ ڈیٹ کرنے کا عہد کیا ہے جو فنڈز کی بروقت فراہمی کو واضح کرتا ہے۔