بریکنگ نیوز : حکومت کا ایک اور بڑا یو ٹرن۔!!! عدالت نے حکومت کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی حکومت نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) جمیل اختر کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفیکشن واپس لے لیا گیا جس کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برطرفی کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بینچ نے کے پی ٹی کے چیئرمین جمیل اختر کو عہدے سے برطرف کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ میں نے اس کیس کا بغورجائزہ لیا ہے،میری رائے میں چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن درست نہیں ہوا ہے، اگر کسی پر مس کنڈکٹ کا الزام ہے تو پہلے شفاف تحقیقات ضروری تھیں۔ اٹارنی جنرل خالد خان نے موقف اختیار کیا کہ جمیل اختر سنیئر بیورو کریٹ ہیں، میری رائے میں چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن درست نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت اجازت دے تو چیئرمین کے پی ٹی کو ہٹانے کا نوٹی فکیشن واپس لے سکتے ہیں، نوٹی فکیشن واپس لینے کے بعد جمیل اختر پر الزامات کی شفاف انکوائری کروائی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے جتنے کیسز آرہے وہ سب اختیارات سے تجاوز سے متعلق ہیں، قانون کے مطابق وفاقی وزیر کو آڈٹ کرانے کا اختیار نہیں تھا۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے سوال اٹھایا تھا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیرکیسے پرائیویٹ آڈیٹر مقرر کیا گیا؟، آڈیٹر کو فیس کی ادائیگی کا احتساب کون کرے گا؟ درخواست گزار کے وکیل اشتر اوصاف نے عدالے میں کہا کہ اٹارنی جنرل نے حکومت کو بہترین مشورہ دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد درخواست نمٹا رہے ہیں، حکومت اس معاملے پر قانون کے مطابق عمل کرے۔ اس موقع پر عدالت نے کے پی ٹی کے چیئرمین جمیل اختر کے خلاف یونین کی درخواست سننے سے بھی انکار کردیا۔