اب بھی کہو حکومت کچھ نہیں کر رہی۔!!! صحافی برادری بھی فرانٹ مین قرار۔۔۔ حکومت کا فلاح و بہبود کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز، نرسز، پولیس اور افوج سمیت تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی طرح صحافی برادری بھی کورونا وائرس کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے ۔ صحافی برادری کے اس قابل ستائش کردار کو سراہتے ہوئے بزدار حکومت نے دیگر صوبوں پر

سبقت لیتے ہوئے صحافی برادری کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے ایک خصوصی پیکیج تیار کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات نے اپنے آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات پنجاب نے صحافیوں کی حفاظت کیلئے فوری طور پر نافذ العمل سیفٹی ایڈوائزری تیار کی ہے جو پنجاب کے تمام میڈیا ہاؤسز کو بھجوائی جا رہی ہے ۔ سیفٹی ایڈوائزری میں آمد و رفت، دفتری اوقات میں صفائی و سٹنگ ارینجمنٹ، فیلڈ میں ڈیوٹی کے دوران کیمرہ اور دیگر آلات کی ڈس انفیکشن وغیرہ شامل ہیں۔ خصوصی ریلیف پیکیج کی تفصیلات بتاتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ کورونا کے باعث پیدا ہونے والے economic slowdown سے میڈیا انڈسٹری میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کے مسئلہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت میڈیا کے بقیہ واجبات کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر رپورٹنگ کے دوران متاثر ہونے کی صورت میں متعلقہ صحافی کو پنجاب حکومت ایک لاکھ روپے ادا کرے گی اور خدانخواستہ کورونا کے باعث وفات کی صورت میں متوفی صحافی کے لواحقین کو محکمہ اطلاعات 10 لاکھ روپے کی فوری مالی امداد اور اس کی بیوہ / فیملی کو تاحیات 10 ہزار روپے ماہانہ پنشن ادا کرے گا۔ کورونا کے خاتمے کے بعد 10 صحافیوں کو ان کی کورونا کے حوالے سے آگاہی مہم اور رپورٹنگ کی بنا پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایکسیلینس ایوارڈ، سرٹیفکیٹ اور کیش انعامات دیئے جائیں گے ۔ صحافت کے شعبے سے جڑے ہاکرز حضرات کی جان کے تحفظ کیلئے محکمہ اطلاعات اخبار فروش تنظیموں کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو ماسک اور دستانے فراہم کیے جائیں گے ۔ وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی بتایا کہ بزدار حکومت کی جانب سے ٹیکسوں پر چھوٹ میں میڈیا ہاؤسز کو بھی شامل کیے جانے کی سمری تیاری کے مراحل میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگلے 20سے 22دن بہت خطرناک ہیں، خاص تعدادسے متعلق کہاجاسکتاہے وہ کوروناوباکوآسان لے رہے ہیں، عوام سے گزارش ہے 20 سے 25 دن بہت سنجیدہ ہیں، عوام کو خود کو مزید پابندکرنے کی ضرورت ہے ، عوام کونقصان پہنچے ایسے اقدام پرسمجھوتانہیں ہوگا۔