نہ پہلے کھبی گھبرایا تھا نہ اب گھبراوں گا، جب تک ایک پاکسستانی بھی اس وبائی مرض کا شکار ہے چین سے نہیں بیٹھوں گا۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کاقوم کے لیے دبنگ اعلان

کوئٹہ(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں عوامی خدمت کا جذبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف بلوچستان کے پارلیمنٹیرینز کے وفد نے ملاقات کی۔ پارلیمنٹیرینز نے وزیراعظم کو کرونامتاثرین کی مدد کے لیے رضا کارانہ خدمات

پیش کیں۔وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کے پارلیمینٹیرینز کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزمائش کی گھڑی میں عوامی خدمت کا جذبہ وقت کی اہم ضرورت ہے،کرونا ریلیف ٹائیگر فورس میں لوگوں کی کی بھرپور شرکت حوصلہ افزا ہے۔واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ہم نے بہت بڑا ریلیف پروگرام شروع کیا ہے،پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے،آج ہم ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو رقم پہنچا رہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے جو غریب طبقہ متاثر ہوا اس کی سب سے پہلے مدد کی جائے، بلوچستان میں غریب طبقے کی تعداد زیادہ ہے اس لیے یہاں آیا۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں غریب آدمی کی مشکلات کااحساس ہے، لاک ڈاؤن جاری رکھیں یا نہیں،14 اپریل کو فیصلہ ہوگا. جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ضرورت مندوں میں نقد رقوم کی منتقلی حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ضرورت مندوں میں رقم تقسیم کی جا رہی ہے،2 ہفتے میں 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں میں 144 ارب تقسیم ہوں گے، تاریخ میں کسی حکومت نے اتنی بڑی رقم کی تقسیم کا آغاز نہیں کیا۔آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت کی جانب سے معاشرے کے ضرورت مند اور نادار افراد کو براہ راست مالی امداد کی فراہمی کے سب سے بڑے پروگرام کا باضابطہ اجراء کیا گیا۔ ملک بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں نقد رقوم کی تقسیم بلاشبہ ہماری حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ آئندہ 2 ہفتوں کے دوران 12 ملین خاندانوں میں 144 ارب روپیہ تقسیم کیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن میں غریب آدمی کی مشکلات کااحساس ہے، لاک ڈاؤن جاری رکھیں یا نہیں،14 اپریل کو فیصلہ ہوگا۔