کورونا سے مرنے والوں کواللہ تعالیٰ شہادت کا رتبہ دیتا ہے ،ہم مساجد کے دروازے بند نہیں کر سکتے۔۔۔۔ تبلیغی جماعت نے حکومت کے خلاف بڑی جنگ کا اعلان کر دیا

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علما اسلام ف پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لیے مساجد کے دروازے بند کرنا مزید عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، کورنا وائرس تبلیغی جماعت کی وجہ سے نہیںنااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےملک بھر میں پھیلا، جمعیت علما اسلام تبلیغی جماعت کے ساتھ کسی قسم کی

زیادتی کو برداشت نہیں کرے گی ،کورنا وائرس عالمی وبا ہے ، قوم کو اجتماعی طور پر معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق حافظ حسین احمد نے کہا کہ کورنا وائرس عالمی مسئلہ بن چکا ہے، بلوچستان میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے جس کی وجہ سے کورونا وائرس پھلنے کا مزید خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورنا وائرس رب العالمین کی طرف سے امتحان ہے، قوم اجتماعی دعائیں کرے اور کورنا وائرس سے بچنے کے لئے اللہ تبارک و تعالی سے رجوع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لیے مساجد کے دروازے بند کرنا مزید عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، کورنا وائرس تبلیغی جماعت کی وجہ سے نہیںنااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےملک بھر میں پھیلا، جمعیت علما اسلام تبلیغی جماعت کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کرے گی۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیے گئے لاک ڈاؤن کی مدت 14 اپریل تک بڑھادی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد قیصر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2 ہفتوں تک لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاق اور تمام صوبوں نے مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ بندشوں کو یکم سے 14 اپریل تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ 14 اپریل سے پہلے قومی رابطہ کمیٹی کا ایک اور اجلاس ہوگا جس میں پابندیوں کو ختم کرنے یا بڑھانے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔کورونا وائرس ،جاپان نے پاکستان کو اتنے کروڑ ڈالر امداد فراہم کر دی کہ پاکستانیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھیں گےانہوں نے کہا کہ ماضی میں بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس پھیلا ہے، اب 4 اپریل کو بیرون ملک سے ایک پرواز آئے گی، تمام مسافروں کو ایئر پورٹ پر ہی قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کیے جائیں گے اور رزلٹ منفی آنے پر انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔