’ یہ حالت ہے ہمارے علما اکرام کی ۔۔۔سب ہاتھ ملا کر جائیں کسی بندے کو کرونا ہوجائے تو مجھے چوک میں گولی ماردینا‘جمعہ کی نماز میں دعویٰ کرنے والے عالم دین کو پولیس نے پکڑا توپھر کیا واقعہ پیش آیا ؟ جا ن کر آپ سر پکڑ لیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) جمعہ کی نماز میں لوگوں کو ہاتھ ملانے، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ جوڑ کر نماز پڑھنے کی تلقین کرنے والے عالم دین کو پولیس نے پکڑا تو انہیں ساری احتیاطی تدابیر یاد آگئیں۔علامہ یوسف پسروری نے جمعہ کی نماز میں نمازیوں سے پنجابی زبان میں کہا تھا کہ ’آج سارے بندے ایک


دوسرے سے سلام لے کر جائیں گے، کوئی بندہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے بغیر نہیں جائیں گے، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر نماز پڑھیں ، اگر کسی کو کرونا ہوجائے تو مجھے چوک میں کھڑا کرکے گولی مار دینا، میرا خون معاف ہے۔‘مولوی صاحب کا حکومت کو کھلم کھلا چیلنج، سب ہاتھ ملائیں اور کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھیں، کسی کو کرونا ہوا تو مجھے چوک میں کھڑا کرکے گولی ماردینا۔علامہ یوسف پسروری کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو لاہور پولیس بھی متحرک ہوگئی اور انہیں گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد علامہ یوسف پسروری کو تمام احتیاطی تدابیر یاد آگئیں اور انہیں اسلام کے عین مطابق قرار دے دیا۔ نئے ویڈیو کلپ میں علامہ یوسف پسروری نے کہا ’لاہور پولیس کے کرونا وائرس کے خلاف اقدامات قابل ستائش ہیں، میرے پہلے بیان کے بعد مجھے پولیس نے بلا کر مکمل بریفنگ دی، میں نے احتیاطی تدابیر کی نفی نہیں کی ، احتیاطی تدابیر اسلام کا حصہ ہیں۔ہاتھ ملانے سے گریز اور مریض آدمی سے دور رہنا، ہاتھوں کو بار بار دھونا، سماجی رابطوں میں فاصلہ رکھنا، میں ان تمام احتیاطی تدابیر کی تائید کرتا ہوں اور تمام پاکستانی بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہدایات پر عمل کریں اور احتیاط برتیں۔‘خیال رہے کہ اس سے قبل بھی علامہ یوسف پسروری اپنے طور پر ایک ویڈیو پیغام میں اپنے جمعہ کے خطبہ والے بیان کی تردید کرچکے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا جو کلپ وائرل ہوا وہ نامکمل تھا ، اس میں پوری بات نہیں بتائی گئی بلکہ اپنی مرضی کا حصہ کاٹ کر ویڈیو کو وائرل کیا گیا۔