مندی کے دِنوں میں اچھی خبر۔۔!! پاکستان اور چین نے بڑا فیصلہ کر لیا، پاکستانی معیشت سنبھلنے کے قریب

بیجنگ (نیوز ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کا راستہ نہیں روک پائے گا، دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ اور تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں، ہمیں احتتاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہو گا، مگر ہماری تجارت کا تسلسل برقرار

ہے۔ ڈیلی گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ اپنے ٹرانسپورٹ اور تجارتی روابط کو برقرار رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس وبائی امراض کے اثرات زیادہ دیر تک چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ کی تعمیر پر اثر انداز ہوں گے کیونکہ دونوں ممالک سی پیک منصوبے کی بر وقت تکمیل کے لئے پرعزم ہیں اور ہم پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے لئے بہت روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور خطہ کے دیگر ممالک بھی منصوبہ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ اپنے تجربات کو شیئر کیا ہے اور چین نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ٹیمیں بھیجی تھیں اور ہزاروں افراد کے لئے ٹیسٹ کٹس فراہم کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے چین سے اہلکاروں کے حفاظتی سامان اور رضاکاروں کی بھی ضرورت پڑے گی اور چین کی طرف سے ہمیں امداد فراہم بھی کی جا رہی ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل سے ہونے والے معاشی نقصان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے اور جلد ہی اس حوالے سے تفصیلات حکومت کو فراہم کی جائیں گی۔ ہمارے لئے یہ تشویش کی بات ہے کیونکہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی

ملک ہے اور یہاں کی آبادی بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہے اور ٹڈی دل کے حملے سے فصلوں پر منفی اثرات پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے چین نے ہماری مدد کی ہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے چین کے دورے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم چین کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں کیونکہ چین ہمارا دیرینہ دوست ہے اور ہماری عوام چین کے عوام کے ساتھ خصوصی محبت کرتے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر عارف علوی نے چین کے صدر ، وزیر اعظم ، اور نیشنل پیپلز کانگریس کے چیئرمین سے ملاقاتیں کیں جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال ، افغانستان امن اور کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے یاداشتوں پر دستخط بھی کئے گئے۔کرونا وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لئے چین کے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے اقدامات نہ صرف بروقت تھے بلکہ یہ بہت موثر تھے اور چینی قوم نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے کورونا وائرس پرقابو پانے کے لئے اپنے تجربات سے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے کیونکہ یہ وبا عالمی چیلنج بن گیا ہے،ہمیں اس سے گھبرانہ نہیں بلکہ ملکر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔