مزید اموات کا انتظار نہیں کر سکتے۔۔۔۔ مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ، حکومت پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا

کراچی (ویب ڈیسک) سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ شہروں کو لاک ڈاﺅن کرکے ہی کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکا جاسکتا ہے، حکومت کو کرونا کی وجہ سے اموات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی لاک ڈاﺅن کردینا چاہیے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ حکومت کو شہروں کو لاک ڈاﺅن کرنا پڑے گا ، سب ممالک نے لاک ڈاﺅن کیے ہیں لیکن ہماری حکومت اموات کا انتظار کر رہی ہے۔ چین میں جب وائرس آیا تو اس وقت پتا ہی نہیں تھا کہ یہ کون سا وائرس ہے لیکن جب اس کا پتا چلا تو انہوں نے 11 شہر لاک ڈاﺅن کیے، دیگر ممالک نے بھی لاک ڈاﺅن کیے ہوئے ہیں ، ہماری حکومت کو صورتحال خراب ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اور فوری لاک ڈاﺅن کرنا چاہیے۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ ڈر ہے کہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے غریب لوگ بھوکے مر جائیں گے ، حکومت کو چین کے ماڈل کو سامنے رکھنا چاہیے، چین نے لاک ڈاﺅن کیا تو لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ تفتان بارڈر پر صوبوں میں کو آرڈی نیشن نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی، صوبے یہی سمجھتے رہے کہ تفتان بارڈر سے سکریننگ کرکے لوگوں کو بھیجا جارہا ہے، اس حوالے سے باہمی روابط کو بہتر کرنا ہوگا، سندھ نے کرونا کے حوالے سے بہترین کام کیا ہے، باقی صوبوں اور وفاق کو بھی سندھ کی طرز پر کام کرنا چاہیے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ روز سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کرونا وائرس اسرائیل نے پھیلایا ہے اسی لیے وہاں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، اس حوالے سے ایک تفصیلی پوسٹ بھی واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیجز پر بڑی تعداد میں شیئر کی گئی ہے اور لوگ کرونا

کو ’یہودی سازش‘ قرار دے کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کر رہے ہیں۔ ایسا وہی لوگ کر رہے ہیں جو حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ حقیقت میں اسرائیل بھی کرونا سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور وہاں اس کے کیسز کی تعداد پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ویب سائٹ پر موجود اعدادو شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 94 ہزار 29 کنفرم کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 873 ہوچکی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کرونا وائرس اب تک دنیا کے 164 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے جن میں اسرائیل اور فلسطین بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ کے اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 18 مارچ 2020 تک اسرائیل میں کرونا وائرس کے 304 کیسز رجسٹر ہوچکے ہیں تاہم وہاں اس سے تاحال کسی شخص کی جان نہیں گئی۔ مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 44 ہے اور وہاں بھی کوئی شخص اس موذی بیماری کے باعث جان سے نہیں گیا۔دوسری جانب وائس آف امریکہ (وی او اے) بھی اپنی ویب سائٹ پر کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کر رہا ہے۔ وی او اے کے مطابق اسرائیل میں بدھ کے روز تک کرونا وائرس کے 337 کیسز سامنے آچکے ہیں۔اگر اسرائیل کے اعداد و شمار کا پاکستان سے تقابل کیا جائے تو وہاں کرونا کیسز کی تعداد یہاں سے زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں کرونا کے کنفرم کیسز کی تعداد 241 ہے جبکہ وی او اے کے مطابق یہاں کرونا کے متاثرین کی تعداد 236 ہوچکی ہے، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے کنفرم کیسز کی تعداد 247 ہوچکی ہے۔