بریکنگ نیوز: خواجہ آصف کو سبکی کا سامنا۔۔!! مسلم لیگ(ن) میں شاہد خاقان عباسی کی مقبولیت کا ڈنکا بجنے لگا، لیگیوں کی دھڑے بازے کُھل کر سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ن لیگ کے اجلاسوں میں شاہد خاقان عباسی کے بیا نیے کو مقبولیت حاصل ہونے لگی۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنمائوں خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان بڑھتی خلیج کے باعث جہاں لیگی رہنمائوں کو ایک طرف نواز شریف کے احکامات کے تحت پارٹی چلانے کا کہا جا

رہا ہے تو دوسری طرف پارٹی صدر شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دن بدن پیدا ہوتی سیاسی انڈرسٹینڈنگ کی بات کی جا رہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی کی بات کو نواز شریف اور شہباز شریف دونوں اہمیت دیتے ہیں جبکہ خواجہ آصف کی پالیسی ن لیگ کے متعدد رہنمائوں کے لئے قابل قبول نہیں ۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر اب بھی اس فیصلے کو سراہا جاتا ہے جس کے مطابق چودھری نثار کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاوس میں اجلاس میں بھی ارکان کے زیادہ تر سوالوں کے جواب شاہد خاقان عباسی نے دیئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اسی میں سے 42 ارکان کی حاضری کا بھی سخت نو ٹس لیتے ہوئے جاوید مرتضی عباسی کو ہدایات جاری کیں کہ وہ آئندہ اجلاس میں پارٹی اراکین کی حاضری سو فیصد یقینی بنائیں۔ دوسری جانب ایف آئی نے احسن اقبال، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی کو طلب کیا ہے، خواجہ آصف کو 10 مارچ کو 3 بجے ،احسن اقبال کو 11 بجے اور شاہد خاقان عباسی کو 9 مارچ کو طلب کیا گیا ہے ، ن لیگی رہنماؤں کو ایف آئی اے اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا گیا ہے جہاں ان سے جج ویڈیو کیس کے حوالہ سے تحقیقات کی جائیں گی جج ویڈیو سیکنڈل میں پرویز رشید، عظمیٰ بخاری، عطاء اللہ تارڑ بھی ایف آئی اے میں پیش ہو چکے ہیں، واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد احتساب عدالت کے جج کی خدمات دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئیں، جج ارشد ملک نے حلف نامے میں ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت نمائندگان کے ذریعے بارہا رشوت کی پیش کش کی گئی اورتعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی۔ مجھے کہا گیا کہ نواز شریف منہ بولی قیمت دینے کو تیار ہے۔