ارادے پکے ،نیت صاف۔۔!! دوبارہ حکومت ملی تو سب سے پہلے کسے ختم کریں گے۔۔۔؟ن لیگیوں کے عزائم نے عمران اینڈ کمپنی کو شدید جھٹکا دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دوبارہ حکومت ملی تو پہلا کام نیب کو ختم کرنا ہوگا، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کریں گے،ہمارے وزیراعظم، وزیرخزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ٹیکس نہیں دیتے۔ آج الیکشن کرالیں نواز شریف

پاکستان میں سوئپ کرے گا، ایل این جی معاہدوں سے پاکستان کو 500ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ ہوچکا ہے، نواز شریف کے واپس آنے سے مسئلہ حل ہوجائے تو خود انہیں جاکر لے آؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور گورننس کا ماڈل طے کریں، ان ہاؤس تبدیلی سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے،نیب کے حالات کے ذمہ دار چیئرمین نیب ہیں، قانون ختم کر کے نیب کو ایف آئی اے میں ضم کردیں۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم مہنگائی کم کرنے کیلئے کوئی بات نہیں کرتے ہیں، حسین نواز کو بیرون ملک رہتے ہوئے بیس برس ہوچکے ہیں، حسن نواز برطانوی شہری ہے یہ اس کا فیصلہ ہے، وزیراعظم عمران خان کی اپنی اولاد بھی بیرون ملک ہے، عمران خان کو گھٹیا باتیں چھوڑ دینی چاہئیں، وہ ملک کے وزیراعظم ہیں عقل کی بات کریں، بلاول کی عمران خان کے نواز شریف کو این آر او دینے کی بات غلط ہے، نہ عمران خان این آر او دے سکتا ہے نہ نواز شریف نے مانگا ہے۔ وزیراعظم کی تقریروں سے دوبارہ گرفتاری کا خدشہ ہے لیکن گھبراتا نہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے پیراگان ہاﺅسنگ سکینڈل میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی درخواست ضمانت پر نیب کی ایک ہفتے کے التوا کی استدعا منظور کرلی،جسٹس مقبول باقرنے نیب کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں،عدالت نے کہاکہ ایک ہفتے میں تحقیقاتی رپورٹ اور سمری جمع کرائی جائے، رپورٹ درخواست گزارکے وکیل کو تین دن پہلے دیں۔