بغاوت نے کام دکھادیا: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہ سلمان دونوں کا ایک ساتھ قتل ۔۔۔ سعودی عرب سے خبر آتے ہی ایجنسیوں کی دوڑیں لگ گئیں

لاہور (نیوز ڈیسک) معروف صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ بغاوت کی کوشش میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہ سلمان کی جانیں بال بال بچیں، بغاوت کا منصوبہ ناکام بنانے میں سعودی انٹیلیجنس ایجنسی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیز نے بھی سعودی قیادت کی مدد کی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو مبینہ طور پر اب تک کی سب سے بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے افراد کیخلاف شروع کیے گئے آپریشن میں اب تک 20 شہزادے گرفتار کیے جا چکے ہیں، تاہم گرفتار افراد میں سے صرف 4 کا ہی نام ظاہر کیا گیا ہے۔گرفتار افراد میں 2 سب سے نمایاں نام سعودی شاہ سلمان کے بھائی شہزاد احمد بن عبدالعزیز السعود، ان کے صاحبزادے نائف بن احمد ، ان کے بھیتجے شہزادہ محمد بن نائف شامل ہیں۔ ان افراد کو ان کے گھروں سے شاہی محافظوں نے حراست میں لیا گیا۔ان شہزادوں پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا ۔جبکہ شہزادہ نائف کے چھوٹے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا،اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے۔سینئر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان اور شاہ سلمان کے خلاف بغاوت کی ایک بڑی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی۔ بغاوت میں دونوں کی جانیں بال بال بچیں۔کیونکہ دونوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی۔سعودی انٹیلیجنس اور کچھ دیگر غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیز نے بھی ان کو سپورٹ کیا جس کے بعد مزید نیٹ ورک پکڑا گیا۔کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں ایک طرح کی ایمرجنسی ہے۔تمام ترین ائیرپورٹس پر بھی سخت انتظامات ہیں کہ کوئی مشتبہ شخص بھاگنے نہ پائے۔سعودی عرب میں کوئی نارمل حالات نہیں ہیں،بغاوت کی یہ تیسری کوشش کی گئی اور یہ معاملہ مزید گڑ بڑ کی طرف جائے گا۔صابر شاکر نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے: