عورت مارچ ہوگا یا نہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، خلیل الرحمان کے ساتھ کھڑی قوم کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عورت مارچ رکوانے کی دونوں درخواستیں خارج کردیں، عدالت نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت عورت مارچ کیخلاف دونوں درخواستیں میرٹ پر نہیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے عورت مارچ کیخلاف دونوں درخواستیں ناقابل

سماعت قراردے کرخارج کردیں۔ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے دونوں درخواستگزاروں کو اوپن کورٹ میں سنا، عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ عورت مارچ کیخلاف دونوں درخواستیں میرٹ پر نہیں ہیں۔ عورت مارچ پر قانون کے مطابق پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے اختیارات محدود ہیں۔معاملے کو پارلیمانی کمیٹی میں لے جایا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس حوالے سے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے کہ عورت مارچ میں اسلام اورقانون کومدنظررکھنا چاہیے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ اسلام کے خلاف کہاں بات کی گئی، معاشرے میں اسلام کے خلاف ہونے والے واقعات کو روکنے کی ضرورت ہے، اگر 8 مارچ کو کچھ خلاف قانون ہوتا ہے تو کارروائی ہوگی، درخواست گزار قبل از وقت عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ تاہم عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں درخواستوں کو خارج کردیا ہے۔ واضح رہے سول سوسائٹی کی خواتین 8 مارچ بروز اتوار کو اسلام آباد میں عورت مارچ کا انعقاد کررہی ہیں۔ اس موقع پر میرا جسم میری مرضی کے موضوعات پر نعرے بازی اوراپنے مطالبات کو اجاگر کریں گی۔