انتہائی افسوسناک خبر:طبیعت بگڑتے ہی نواز شریف ۔۔۔ لندن سے آنے والی خبر نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا

لندن (نیوز ڈیسک ) لندن میں نواز شریف کی طبیعت اچانک شدید خراب، سابق وزیراعظم کو کارڈیک تھراپی کے لیے براپٹن ہسپتال لے جایا گیا، تفصیلات کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبیعت اچانک شدید خراب ہو گئی ہے اور انھیں لندن کے براپٹن ہسپتال

منتقل کردیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انکا علاج جاری ہے اور براپٹن ہسپتال میں انکی کارڈک تھراپی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ میاں محمد نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں اور انکا علاج جاری ہے۔ گزشتہ دنوں خبر سامنے آئی تھی انکو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔ دوسری جانب حکومت کی طرف سے گزشتہ روز یہ کہا گیا تھا کہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرکہ واپس پاکستان لایا جائیگا۔اس حوالے سے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی واپسی کا وقت آ پہنچا، اگلے ہفتے ڈی پورٹ کرانے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھیں گے۔ انھوں نے کہا تھا کہ امریکا، افغان، طالبان امن معاہدہ عمران خان کے نظریئے کی تائید کرتے ہیں، افغانستان میں امن پورے خطے کے استحکام کے لئے ضروری ہے، امن معاہدے کیلئے پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائیگا۔اس سےقبل سینئر تجزیہ کار حامد میر نے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف واپس آئیں گے اور سیدھا جیل جائیں گے۔ سینئر تجزیہ کار حامد میر نے نجی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف واپس ضرور آئیں گے۔ور واپس آکر سیدھا جیل جائیں گے۔ نواز شریف جیل جانے کے لئے ہی پاکستان واپس آئیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف علاج کرانے گئے تھے علاج مکمل ہونے کے بعد واپس

آجائیں گے ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز سے متعلق حامد میر کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں مریم نواز کو باہر جانے کی اجازت ملے گی یا نہیں تاہم انہیں باہر نہیں جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں موجود ہیں ۔جہاں ان کے بھائی سابق وزیراعلیٰ شہبا زشریف ، ان کے بیٹے اور ماں ان کے پاس موجود ہیں۔ تاہم اب حکومت پنجاب نے نواز شریف کے علاج میں مزید وقت مانگے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن میں پراسرار سرگرمیاں اور خفیہ ملاقاتیں ان کی ضمانت منسوخی کا سبب بنیں۔معروف صحافی رانا عظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کو ضمانت دینے کے لیے پنجاب حکومت کے اندر دو آرا تھیں،کچھ لوگ توسیع کے حوالے سے موقف رکھتے تھے کہ حکومت خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے عدالتی رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔میڈیکل رپورٹس کو بنیاد بنا کر کہا جائے کہ عدالت خود اس معاملے کو دیکھے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ضمانت منسوخ کیے جانے کے بعد نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی بیماری کو سیاست کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، اسی لیے انہوں نے ہدایت کر دی ہے کہ ان کی پاکستان واپسی کے انتظامات کیے جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کیلئے ائیرایمبولینس کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ ممکنہ طور پر ان کے ہمراہ غیر ملکی ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ بھی پاکستان آ سکتا ہے۔