اشرف غنی نے بھارت کی سپورٹ کی۔!! امن معاہدے میں بنیادی کردار کس نے ادا کیا، انٹرا افغان ڈائیلاگ میں کیا بڑا ہونے جارہا ہے؟ پیشگی خطرے سے آگاہ کر دیا گیا

لاہور ( ویب ڈیسک) امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے کیونکہ پاکستان نے پہلے ہی دن سے کہا تھا افغان مسئلے کا فوجی نہیں سیاسی حل ہے ۔ نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو

کرتے ہوئے انہوں نے کہادیکھنا یہ ہے اس معاہدے کی عملداری میں کس قسم کی رکاوٹیں آسکتی ہیں،بھارت نے اس امن معاہدے کو سپورٹ نہیں کیا وہ رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ ایران کا نہیں کہا جاسکتا تاہم اشرف غنی کو بھارت کی سپورٹ ہے اسلئے وہ اس کی مخالفت کررہاہے ، اس معاہدے میں تین ممالک پاکستان، امریکہ اور طالبان تھے ۔امریکہ تمام رکاوٹیں دورکرنے کی ضرور کوشش کریگا کیونکہ انٹر افغان ڈائیلاگ کا مرحلہ بہت مشکل ہے ۔دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا ہمارا تویہی اندازہ تھاکہ زیادہ مشکلات انٹرا افغان ڈائیلاگ میں آئیں گی لیکن افغانیوں کو بھی سمجھناہوگا یہ ان کیلئے بہتر ہے ۔اشرف غنی کو شاید لگ رہا ہے انہیں تنہا کردیا گیا ہے ۔اس معاہدے کی ایرانیوں نے بھی مخالفت کی ہے ۔وقتی طورپرامریکہ پاکستان کیساتھ تعلقا ت نہیں بگاڑے گا۔ تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا افغان ا من معاہدے میں بنیادی کردار پاکستان نے ادا کیا ہے ۔ امریکہ، روس، چین اور دیگرممالک کوبھی اعتماد میں لیا گیا ۔ اگر یہ سارے ممالک ایک پیج پررہیں تو مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ اشرف غنی مانیں یا نہ مانیں اب تو ڈیل ہوگئی ہے ۔ مجھے لگتا ہے امریکہ افغانستان سے یکدم نہیں نکل رہا اورنکلے گا بھی نہیں۔ طالبان نے ا کیلے افغانستان کا حکمران نہیں بننا ہے ۔امریکہ ہی ا فغانستان کو چلانے کیلئے پیسہ دے سکتا ہے ایران ا وربھارت نہیں دے سکتے ۔افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ایاز وزیر نے کہا جو بات سامنے آرہی ہے وہ سول وار کی طرف ہی اشارہ ہے ۔اصل مرحلہ تو انٹر افغان ڈائیلاگ کا ہوگا۔اپنی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے اشرف غنی امن معاہدے میں روڑے اٹکارہا ہے ۔اب بھی موقع ہے امریکہ انہیں سمجھا دے ۔ اس میں کوئی شک نہیں اگر افغانستان میں امن آجائے تو پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔