لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔۔۔ نیب کی حراست سے آزاد ہوتے ہی بھڑکیں مارنے والے احسن اقبال کو ایک دفعہ پھر بڑا جھٹکا دے دیا گیا

راولپنڈی(ویب دیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو جمعہ کو قومی احتساب بیورو کے دفتر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نیب حکام نے لگی رہنما کا پاسپورٹ قبضے میں لے کر ان

کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے بیرون ملک سفر نہ کرنے کا بیان حلفی بھی دے دیا ہے۔ نیب نے احسن اقبال سے بیرون ملک سفر نہ کرنے کی یقین دہانی کے لیے بیان حلفی مانگا تھا۔یاد رہے کہ 26 فروری کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔عدالت کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی رہائی کے لیے ایک، ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبرکے مطابق نیب نے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے دوران حراست سوال نہ کرنے کے بیان کو بےبنیاد قرار دے دیا۔ ترجمان نیب نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے دوران تحویل نہ صرف سوالات کیے بلکہ بیانات بھی قلمبند کیے گئے، ایل این جی کیس میں شریک ملزمان اور گواہان کےخلاف ریفرنس بھی دائرکردیا ہے۔نیب اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے دوران حراست سوال نہ کرنے کے بیان کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی سے تحویل کے دوران نہ صرف سوالات کیے بلکہ ان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ ایل این جی کیس میں شریک ملزمان اور گواہان کے بھی بیان قلمبند کرکے ریفرنس دائرکر دیا ہے۔ احسن اقبال کے جوابات کی روشنی میں نیب کی انکوائری جاری ہے۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا پاسپورٹ ضبط کر لیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو جمعہ کو قومی احتساب بیورو کے دفتر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نیب حکام نے لگی رہنما کا پاسپورٹ قبضے میں لے کر ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے بیرون ملک سفر نہ کرنے کا بیان حلفی بھی دے دیا ہے۔نیب نے احسن اقبال سے بیرون ملک سفر نہ کرنے کی یقین دہانی کے لیے بیان حلفی مانگا تھا۔یاد رہے کہ 26 فروری کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔عدالت کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی رہائی کے لیے ایک، ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے میں نے اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے کہا کہ آپ وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔ان کو کہا کہ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ میں نے عمر ایوب سے کہا تھا کہ ایل این جی اسکینڈل پر کمیٹی بنا دیں۔