بھارت کا سب سے بڑااخبار ’’ دی ہندو‘‘ بھی عمران خان کو مان گیا، پاکستان کا امیج پوری دنیا میں بہتر بنانے پر پاکستانی وزیر اعظم کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سب سے بڑے ہندوستانی اخبار ‘دی ہندو’ نے پاکستان کا امیج بہتر بنانے پر وزیر اعظم خان کی کوششوں کی تعریف کی ہے اور ساتھ ہی عمران خان کی کامیاب سفارتکاری کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مشہور بھارتی اخبار میں کہا گیا تھا کہ مستقبل میں

امریکہ اب افغان سیاست کی تشکیل کے لئے پاکستان پر انحصار کرے گا۔ہندوستان کے سب سے بڑے اخبار ‘دی ہندو’ نے پاکستان اور طالبان اور امریکی حکومت کے مابین ثالثی کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ اخبار کی خبر کے مطابق پاکستان افغان طالبان کی قیادت کے ساتھ ساتھ حقانی نیٹ ورک کی بھی میزبانی کرتا ہے جو کہ طالبان کا ایک اہم جز ہے ، اور باغیوں اور امریکیوں کے مابین براہ راست مذاکرات میں آسانی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اخبار کے مطابق ، اگر امریکہ افغانستان سے نکل جاتا ہے تو ، وہ کھل کر افغانستان میں طالبان کو بااختیار بنائے گا ، جس کا مطلب ہے کہ اس ملک میں پاکستان کا مورال مزید بلند ہوجائے گا۔اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں امریکی حکومت کا انحصار افغان سیاست کی تشکیل کے لئے ہوگا۔ہندوستانی اخبار نے وزیر اعظم عمران خان کی حکمت عملی کی بھی تعریف کی ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد انہوں نے ٹرمپ حکومت کو کس طرح خوش کیا۔ اخبار میں لکھا گیا کہ “پلوامہ حملے اورپاکستان اوربھارت کے مابین ہونے والے تنازعہ کے بعد ، ٹرمپ حکومت کو راغب کرنے کے لئے اسلام آباد نے اہم کوششیں کیں۔ جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان جولائی 2019 میں واشنگٹن تشریف لائے تو صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دونوں ممالک کے مابین ثالثی کی پیش کش کی”۔وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں فوجی پہلو بھی تھے۔ اس دورے سے کچھ دن قبل ، امریکی فوج میں اعلی درجے کے افسر ، جنرل مارک ملی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات کو برقرار رکھتا ہے تو امریکہ کے مفادات بہتر طور پر انجام پائے جاتے ہیں۔