پاکستان بمقابلہ بھارت : بھارت کی جانب سے کوئی ٹیم پاکستان نہیں بھجوائی گئی تو پھر یہ میچ کون اور کس طرح کھیل رہا ہے ؟ کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل سے چند گھنٹے قبل حیران کن حقائق سامنے آگئے

لاہور(ویب ڈیسک ) بھارتی پنجاب کے وزیرکھیل اور کانگریس کے رہنمار انا گرمیت سنگھ سوڈھی نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکرچوہدری پرویز الٰہی کو یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان جانے والی کبڈی ٹیم کے خلاف بلاجواز کوئی کارروائی نہیں کریں گے جبکہ بھارت کے مرکزی وزیر کھیل اور بی جے پی کے رہنماکرن ریجیجو نے واضح الفاظ میں

کہاہے کہ پاکستان جانے کے لئے کسی کھلاڑی کو اجازت نہیں دی گئی اور جو لوگ بلااجازت پاکستان گئے ہیں ان کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ٹیم کے 18 کھلاڑی گزشتہ روز واپس واہگہ بارڈر کے راستے بھارت چلے گئے ہیں۔روزنامہ جنگ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکراور سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی نے بھارتی پنجاب کے وزیرکھیل اور اپنے دیرینہ دوست رانا گرمیت سنگھ سوڈھی کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان آنے والی کبڈی ٹیم کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کریں۔ اخبار کے مطابق رانا سوڈھی نے تصدیق کی ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں فون کیا ہے اور کہا ہے کہ مبینہ طور پر بلا اجازت پاکستان جانے پر کبڈی کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کئے جانے کی اطلاعات سے بھارتی ٹیم کے کھلاڑی پریشان ہو گئے ہیں جب کہ ان کا مورال بھی ڈاﺅن ہو کر رہ گیا ہے جس کے بعد بھارتی کبڈی ٹیم کے کوچ ہرپریت سنگھ دیگر بھارتی کھلاڑیوں کے ہمراہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔رانا سوڈھی نے بتایا کہ انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جانے والے کھلاڑی بھارت کی قومی ٹیم کی حیثیت سے پاکستان نہیں گئے اور نہ ہی کبڈی ورلڈ کپ2020 میں بھارت نے کوئی ٹیم بھجوائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرویز الٰہی نے انہیں بتایا ہے

کہ کبڈی کے فائنل میچ کو سکھوں کے مذہبی راہنما گورو نانک دیو جی کے 550ویں جنم دن سے منسوب کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں رانا سوڈھی نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی سے بات کرنے کے بعد انہوں نے کوچ ہرپریت سنگھ کو فون کیا اور انہیں حوصلہ دیا کہ ان کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی جب کہ انہوں نے کھلاڑیوں کو کہا ہے کہ وہ محنت سے کھیلیں اور جیت کر بھارت واپس لوٹیں۔اخباری ذرائع کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو بھی فون کیالیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف بھارت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان جانے والی کبڈی ٹیم کے بعض کھلاڑی بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پولیس کے ملازمین ہیںجن کو بھارت سے باہر جانے کے لئے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے جب کہ بھارت کے مرکزی وزیر کھیل کرن ریجیجو نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان جانے کے لئے کسی کھلاڑی کو اجازت نہیں دی گئی اس لئے بلا اجازت پاکستان جانے والے کھلاڑیوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی کو بھارت کا قومی جھنڈا استعمال نہیں کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔دریں اثنا بھارت سے آنے والے57ارکان پر مشتمل کبڈی ٹیم کے 18افراد فائنل میث سے قبل ہی گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے بھارت واپس چلے گئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں نے اٹاری پہنچے کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور خاموشی کے ساتھ وہاں سے روانہ ہو گئے۔