حافظ محمد سعید کو 5 سال قید کی سزا : مگر کیا حافظ صاحب سزا پوری کریں گے ؟ نامور شخصیت کے ماضی کے حوالے سے بی بی سی کی ایک حیران کن رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشتگردی کے آپریشنز کی مالی معاونت کے حوالے سے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنائی ہے۔حافظ سعید ساڑھے پانچ سال قید کی دو سزائیں ایک ساتھ کاٹیں گے۔

نامور صحافی الیاس خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔انڈیا ان پر 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ ان حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔حافظ سعید کئی برسوں سے انڈیا کو مطلوب ہیں اور اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ امریکہ نے تو ان کے سر پر 10 ملین ڈالر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔تو انھیں قید کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا اور کیا انھیں قید میں رکھا جا سکے گا؟ ان سوالوں کے جواب میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ عام تاثر یہ ہے کہ حافظ سعید کے پاکستانی فوج کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔اس کے پیچھے شاید پاکستان کی 2000 کی دہائی کے وسط سے بڑھتی بین الاقوامی تنہائی، بگڑتی معاشی صورتحال اور ماضی قریب میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ حافظ سعید کو عدالت نے سزا ایک ایسے وقت پر دی ہے جب آئندہ ہفتے پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستانی حکومت کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی پر غور کیا جانا ہے۔عسکریت پسندوں کو اپنی خارجہ پالیسی اہداف کے لیے استعمال کرنے کے الزام کو پاکستان کئی برسوں سے رد کرتا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان شدید مالی مشکلات میں بھی مبتلا ہے۔1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک میں بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فوجی حکومتیں رہی ہیں اور امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی امداد پر بہت انحصار رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہیں کر سکا اور اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا گیا تو اس سے سنگین مالی اور سفارتی نقصانات کا خطرہ ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرضہ ملنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ادھر انڈیا پاکستان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی دفترِ خارجہ نے حافظ سعید کی سزا کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ یہ ان ممالک کی فہرست ہے جو منی لانڈرنگ اور شدت پسندی کے مالی معاملات کے خلاف بنائے گئے سٹینڈرڈز کی پاسداری نہیں کر سکے ہیں۔اس کے بعد کئی ماہ تک بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان نے شدت پسندی سے منسلک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور سینکڑوں ایسی پراپرٹیز کو سیل کر دیا جن کا کلعدم تنظیموں سے کوئی تعلق تھا۔مگر بہت سے لوگوں نے ان اقدامات کو صرف دکھاوے سمجھا کیونکہ بڑی تنظیموں جیسے کہ جماعت الدعوۃ یا جیشِ محمد کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔پاکستانی حکام پر دباؤ بڑھتا رہا اور اپریل 2019 میں حکومت نے جماعت الدعوۃ اور مرکزِ دعوت الارشاد سے منسلک چھ تنظیموں پر پابندی لگائی۔حافظ سعید کو بھی سزا کلعدم تنظیموں سے منسلک پراپرٹی کی ملکیت پر ہوئی ہے۔انھیں گذشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کے ریویو میں تین ماہ رہتے تھے۔ اس ریوو میں پاکستان کے متعدد اقدامات کو ناکافی پایا گیا

مگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق کسی فیصلے کو آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ یہ اجلاس آئندہ ہفتے ہونا ہے۔دسمبر میں حافظ سعید پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور دو ماہ سے کم عرصے میں اس طرح کا فیصلہ آ جانا پاکستان کے لیے شاید کسی قسم کا ریکارڈ ہو۔مگر ان کے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی تعلقات کے تناظر میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوال ہی ہے کہ کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ چھوڑ دے گی اور انھیں مکمل سزا کاٹ کر ایک سزا یافتہ مجرم کی زندگی گزارنی ہوگی۔۔پاکستان نے 9/11 کے بعد انھیں کئی مرتبہ گرفتار کیا ہے مگر ان پر کبھی کسی مقاملے میں فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے اور آخر میں انھیں چھوڑ ہی دیا جاتا ہے۔جب انڈیا کی حکومت نے ان پر دسمبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا تو انھیں نظر بند کر دیا گیا تھا اور پھر 2006 میں ممبئی ٹرین حملوں کے الزام کے بعد بھی یہی کیا گیا تھا۔انھیں 2008 اور 2009 کے درمیان بھی متعدد بار گھر میں نظر بند کیا گیا جب ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ لشکرِ طیبہ نے 2008 میں ممبئی حملے کیے تھے۔ان سب موقعوں پر پاکستانی حکومت نے ان کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی تھی۔ اس کے بجائے حکومت صرف ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواستیں دیتی رہی اور عدالتیں آخر کار ان میں توسیع سے انکار کر دیتیں۔ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس مرتبہ کچھ مختلف ہوگا یا ان اقدامات سے ایف اے ٹی ایف مطمئن ہو سکے گا۔(بشکریہ : بی بی سی)