نیااور پڑھا لکھا پاکستان ۔۔۔۔ ملک بھر کی نجی جامعات کے سربراہان نے مل کر حکومت کو بڑ اسرپرائز دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک)پنجاب بھر کی نجی جامعات کے سربراہان نےحکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اختیار کی گئی سرکار ی سوچ میں مثبت و تعمیر ی تبدیلی کی فوری ضرورت ہے،حکومت کی منفی حکومتی پالیسیاں جاری رہیں تو نجی یونیورسٹیوں کو تالے لگ جائیں گے،

اجلاس میں معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر پروفیسر چودھری عبدالرحمان پنجاب پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ایسوسی ایشن کے چئیرمین منتخب۔تفصیلات کے مطابق فروغ تعلیم کے وسیع ترمفاد میں پنجاب بھر کے نجی جامعات کا اہم اجلاس یونیورسٹی آف لاہور میں منعقد ہوا جس میں پنجاب کی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان اور اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی، پنجاب بھر کی نجی جامعات کے اہم اجلاس میں حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اختیار کی گئی سرکار ی سوچ میں مثبت و تعمیر ی تبدیلی کی فوری ضرورت ہے ۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اعلیٰ تعلیم کے معاملہ میں منفی حکومتی پالیسیاں جاری رہیں تو نجی یونیورسٹیوں کو تالے لگ جائیں گے، اس سے لاکھوں طالب علموں اور ہزاروں اساتذہ کا مستقبل تاریک ہوجائیگا۔نجی شعبے میں کام کرنے والی جامعات کے مالکا ن اور اعلیٰ تنظیمی عہدیداران کے اجلاس میں نجی جامعات کی ایسوسی ایشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اورمعروف ماہر تعلیم ڈاکٹر پروفیسر چودھری عبدالرحمان کو پنجاب پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ایسوسی ایشن کا پہلا چئیرمین منتخب کیا گیا ۔ایسوسی ایشن کے بنیادی چارٹر میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کو طلبا و طالبات کی آسان دسترس میں لانے کے اقدامات اٹھائیں جائیں گے جبکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی ۔ایسوسی ایشن کےچارٹر میں اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی نظام میں موجود بے قاعدگیوں کو ختم کرنے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کی اصلاح کے لیے نتیجہ خیز کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا جبکہ حکومت سے نجی تعلیم شعبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے مالکان کے جائز مطالبات کو کسی تاخیر کے بغیر تسلیم کرانے کے لئے مل کر جدوجہد کی جائے گی ۔اجلاس میں طے کیاگیا کہ نجی جامعات کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو بہت جلد حکومتی ذمہ داران کے سامنے رکھا جائیگا۔ اجلاس کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ حکومتی سطح پر تشکیل دی جانے والی تعلیمی پالیسیوں او ر ترجیحات کے حوالے سے نجی جامعات سے مشاورت کی جائیگی اور حکومتی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نجی شعبے کی خدمات کو تسلیم کیا جائیگا۔