کابینہ میں نئے چہرے شامل کرنے کافیصلہ۔۔۔!!! کون ہوگا اِن کون آؤٹ؟ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان ہنگامی ملاقات میں کیا طے پا گیا؟ بڑی خبر

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار، صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ عمران کان نے حکومتی سیٹ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے، اس میں کوئی نئے چہرے سامنے آئے گے جبکہ پُرانے چہروں کو گھر بھیج دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر خصوصی پیغام جاری

کرتے ہوئے صابر شاکر کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی ٹیم میں رد و بدل کرنے والے ہیں، عمران خان بہت بڑا فیصلہ کر چکے ہیں، کچھ چیزیں اسی مہینے یعنی مارچ سے پہلے اور کچھ مارچ کے بعد تبدیل ہوں گی، اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ صابر شاکر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید کے درمیان ایک ملاقات ہوئی، اس ملاقات کے فوری بعد ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ملاقات ہوئی، اس میں سے اہم یہ ہے کہ ایک خبر کو میڈیا کی زینت بنایا گیا(جو ملاقات ڈی جی آئی ایس آئی سے ہوئی) اور دوسری خبر رپورٹ ہی نہیں کی گئی، جو ملاقات رپورٹ نہیں کی گئی اس میں میں داخلی اور خارجی امور پر بات ہوئی، خاص طور پر کشمیر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، ملک میں داخلی استحکام کیسے لایا جائے؟آنے والے 2,4 ہفتوں میں سب کچھ سامنے آ جائے گا ۔صابر شاکر نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، نہ ہی ذہنی طور پر اور اصولی طور پر وہ اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ فوج سیاسی امور میں مداخلت کرے، یا سیاسی نظام پر قابض ہو جائے، اور جب پانامہ کا معاملہ آیا تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد مانگی گئی لیکن انہوں نے صاف جواب دے دیا تھا کہ یہ آپ کا اور عدالت کا معاملہ ہے ، فوج کسی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔صابر شاکر نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو کہا تھا کہ آپ ہمارے پارٹنر ہیں ، مل کر حکومت چلائیں گے، لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں آپ کا پارٹنر نہیں ہوں، میں آپ کا ماتحت ہوں۔صابر شاکر نے کہا کہ کل کابینہ کا اجلاس ہونے جا رہا ہے اور غریب عوام کو 15 ارب کا پیکج دیا جا رہا ہے، تا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم پڑے، اور مخصوص تندوروں پر آٹا سبسڈی پر فراہم کیا جائے گا، تا کہ وہاں سے سستی روٹی غریب عوام کو مل سکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی ٹیم اس پر عمل کیسے کرتی ہے؟کیا سیاسی طور پر اس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہو گا یا نہیں؟