جناب میرا بھی گزارہ نہیں ہو رہا ، خدارا ان لوگوں کی چھٹی کروائیں ۔۔۔۔ صدر مملکت عارف علوی کا حیران کن بیان اور مطالبہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عارف علوی نے کہا ہے کہ آٹا بحران گورننس کا مسئلہ تھا، مافیا ہر حکومت میں موجود ہوتا ہے ، آرمی چیف کی مدت ملازمت کی سمری پر دستخط کر دیئے ، پارلیمنٹ سے ترمیمی ایکٹ پاس ہونے کے بعد سمری پر دستخط کیے ۔ نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں

صدر عارف علوی نے کہا کہ حالات کی عکاسی کرنا میڈیا کا فرض ہے ، میڈیا حکومت پر تعمیری تنقید کر سکتا ہے ۔ آٹے کے بحران کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ کراچی میں کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آٹے کے بحران کا ذمہ دار کون ہے ؟میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم، مجھے پتا ہونا چاہیے ، کیوں کہ اُس وقت یہ تعین کرنا ناممکن تھا۔ میرے بیان کی غلط تشریح کی گئی ۔ ایک سوال پر صدر نے کہا کہ سب سے بڑا مافیا وہ ہے جو لوگوں کو غلط خبردے ۔میرے متعلق ٖغلط خبر دی گئی، میڈیا مافیا بھی اتنابڑا مافیا نہیں، اگر میں کہوں کہ میڈیا مافیا ہے تو آپ اس کو بھی الٹ لیں گے ۔میں کسی کی طرف انگلی نہیں اٹھا رہا۔ میں صرف اپنی وضاحت کر رہا ہوں ۔ٹی وی چینلز نے بتایا کہ صدر پاکستان کو آٹے کے بحران کا علم ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا دور ہے ۔ کچھ مافیاز پیداوار اور فروخت کے حوالے سے ذمہ دار ہیں۔ میں نے اخبار میں پڑھا آٹا جس وقت باہر نہیں بھیجنا چاہیے تھا، بھیج دیا گیا، جب اس کی قلت ہوئی تو اس کو درآمد کیا گیا ۔صدر نے کہا کہ یہ چیز میرے لیے بھی پریشان کن ہے ، یہ گورننس کا ایشو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مہنگائی ہے ، میں یہاں حکومت کا دفاع کرنے کے لیے نہیں بیٹھا ہوں نہ ہی اتنا پریشان ہوں جتنے آپ ہیں۔ آٹا بحران کے ذمہ دار کی چھٹی ہونی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور دیگر چیزوں سے سبسڈی ہٹانے سے مہنگائی کا رجحان آنا تھا۔ حکومت نے یہ نہیں کہا تو اس کو اس کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت کم از کم اجناس اور غریب تک پہنچنے والی اشیا ئکا مناسب انتظام کرے ۔ ان کا کہنا تھا کچھ گورننس کا مسئلہ ہے ،جیسا کہ آٹے کا بحران یا چینی کا معاملہ ہے ، حکومت خود بھی کہہ رہی ہے کہ اس کو ہینڈل کرنا چاہیے ۔ حفیظ پاشا نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دو سال میں 22 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں ۔صدر نے کہا یہ صورت حال بڑی تشویشناک ہے ، تا ہم میں پُر امید رہتا ہوں، روشنی کی لکیر ہی دیکھنا چاہیے ، موڈیز نے ہماری ریٹنگ بہتر کی ہے ، اس سے ظاہر ہے کہ ہم نے باقی چیزوں کو سنبھال لیا ۔برآمدات 2فیصد بڑھ گئیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں برآمدات بڑھنے کا زیادہ امکان ہے ۔مہنگائی سے میں بھی اتنا ہی پریشان ہوں جتنا ایک عام آدمی ہے ۔ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کے لیے ادائیگی پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے ساتھ معاہدے ہیں ۔ان کو ہم انکار نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم نے ریکوڈک کا کیس ہارا، کارکے کا معاملہ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر اردوان نے مل کر حل کر لیا۔ صدر نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت پروگرام میں 40 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مافیا سے نمٹنے کے لیے ہمت کرنا ہو گی۔ وزیراعظم کا عزم بڑا مضبوط ہے ۔ ہاؤسنگ کے شعبے سے معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔

عدالت نے سٹے آرڈر دے رکھا ہے ۔ مہنگائی کم کرنے سے شرح سود بھی کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کچھ چیزیں سمجھنے میں دیر لگی ہے ۔ پچھلا خزانہ خالی تھا ،آج تک ہم اس کا رونا رو رہے ہیں، لیکن حکومت کو اپنی گورننس کے مسائل کوتسلیم کرنا چاہیے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو کسی سے بات کرنے کی جرأت نہیں تھی۔ آرڈیننس فیکٹری تب تک کام کرتی رہے گی جب تک پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی۔ حکومت نے اتحادیوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے کرے ، کچھ لو اور دو جمہوریت کی روح ہے ۔یہ چلتا رہے گا، میری کوشش ہے کہ پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں میں تعاون بڑھے ،پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ پارلیمنٹ کے ہر سیشن پر عوام کا بڑا پیسہ لگتا ہے ۔ ایک سوال پر صدر نے کہا میرا نہیں خیال کہ (ن) لیگ سٹیبلشمنٹ کے ذریعے راستہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ، ان کی ا پوزیشن ہے ۔حالات کو دیکھ کر کبھی وہ زیادہ کرتے ہیں کبھی کم، میں پُر اعتماد ہوں کہ حکومت معاملات سنبھال لے گی اور مشکل وقت سے نکل جائے گی۔ حالات میں اچھے اشارے بھی ہیں۔ سکیو رٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے ، اس میں فوج کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ نوازشریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کی باتوں پر یقین کرتے ہیں کہ نواز شریف کی طبیعت بہت خراب تھی اور کوئی بھی کیفیت پیدا ہو سکتی تھی ،مجھے یہ الفاظ بھی یاد ہیں جو عدالت نے کہے تھے کہ حکومت نواز شریف کی زندگی کی گارنٹی دے گی؟۔ میڈیا پر نواز شریف کی صحت کے بارے میں زیادہ مبالغہ کیا گیا، میں نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ یہ تصدیق کر لیں کہ کیفیت کیا ہے ۔ نواز شریف وعدہ کر کے گئے ہیں انہیں واپس آنا چاہیے ۔ نواز شریف کا علاج مریم نواز کے بغیر بھی ممکن ہے ۔ نواز شریف کا جیل کا ماحول بدلا ہے ۔لندن میں حالات قدرے بہتر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی پراسیکیوشن کمزور ہے ۔پہلے پکڑ لیتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں، یہ تحریک انصاف کا نیب نہیں، نیب ایک آزاد ادارہ ہے ۔صدر نے کہا کہ بھارت کے رویے سے مایوس ہوا ہوں، کشمیری عوام مظلوم ہیں، ان پر بے پناہ ظلم ہورہا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ لوگوں کو شہید کیا گیا۔