اگر ہم نےغلط کیا تو سزا بھی ہم ہی کاٹ رہے ہیں ۔۔۔۔ (ن)لیگ نے بالآخر اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اللہ کا عذاب قرار دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ن لیگ کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف آئندہ ماہ مارچ میں پاکستان واپس آ جائیں گے ۔نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام ” کیپٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے آصف کرمانی نے بچوں کو زیادتی کانشانہ بنانے والوں

کو سرعام پھانسی کی قرار داد سے متعلق رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں میری معلومات کے مطابق دو رائے موجود ہے ، لوگوں کے پاس اس کے اپنے دلائل ہیں ، میں سمجھتاہوں کہ یہ اتنی درندگی ہے کہ ان کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے ، بے شک انہیں پھانسی ہونی چاہیے لیکن ایسے لوگوں کو ساری عمر کیلئے جیل میں چکی پیسنی چاہیے تاکہ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے کیا جرم کیا ہے ، پھانسی سے تو ان کیلئے آسانی ہو جائے گی اور وہ ختم ہو جائیں گے جو بھی غلط کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے اگر ہم نے غلط کیا تو ہم سزا بھی کاٹ رہے ہیں کسی کو کوئی معافی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف آئندہ ماہ مارچ میں پاکستان واپس آ جائیں گے ، آگے پیچھے نہیں بلکہ اپوزیشن کو ایک ساتھ چلنا چاہیے ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے ابھی جلسوں اور کنونشن کے لیے رابطہ نہیں کیا، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آنا چاہیں تو خوش آمدید لیکن خود انہیں دعوت نہیں دیں گے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ناکام حکومت کی وجہ سے ملک بحران کا شکار ہے، حکومت نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، بجلی، گیس اور پٹرول سمیت ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، عام آدمی بجلی کے بلوں اور مہنگائی کی چکی میں پس چکا ہے، ہماری کوشش ہے کہ عوام کو متحد کرکے مایوسی کو امید میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں سے اپوزیشن تقسیم ہوئی، اپوزیشن تقسیم ہو تو حکومت فائدہ اٹھاتی ہے، ہماری تحریک سے حکومت کی دیواروں میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں لیکن اپوزیشن تقسیم ہونے کی وجہ سے تحریک کے نتائج موخر ہوئے ہیں۔چوہدری برادران ٹھیک کہتے ہیں کہ ان کی بات نہیں سنی جارہی،ان کے حکومت سے اختلافات نظر آرہے ہیں۔ میں چوہدری برادران سے کہتا ہوں کہ ان کے پاس میرے حوالے سے جوامانت ہے وہ اسے منظر عام پر لے آئیں۔چوہدری پرویز الٰہی سے کہتا ہوں کہ اب وہ جسے امانت کہتے ہیں وہ راز کھول دیں،کوئی راز کی بات تھی، تین فوری استعفے اور تین ماہ میں انتخابات کا وعدہ کر کے دھرنا ختم کروایا گیا تھا،چوہدری برادران پہلے اپنی پوزیشن تبدیل کریں پھر ان کو جلسوں میں مدعو کرنے کا سوچیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت گھر جاچکی ہے اور اس وقت کوئی حکومت نہیں،اس وقت کچھ اور قوتوں کی رٹ ہے،ہماری تحریک کا نتیجہ ہے کہ حکومت کے اتحاد میں دڑاڑیں پڑ چکی ہیں جو ہمارے مقصد کی جانب پیشرفت کی علامت ہے۔23فروری کو کراچی میں جلسہ عام، یکم مارچ کو قومی کانفرنس،19مارچ کو لاہور میں آزادی مارچ کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بیماری کی بنیاد پر علاج کے لئے باہر جانا چاہتا ہے تو میں اسے سیاسی کیس نہیں بنانا چاہوں گا۔