You are here
Home > پا کستا ن > نیب کا بڑا کھڑاک۔۔۔ اہم سیاسی شخصیات کے خلاف بڑی کارروائی ڈال دی

نیب کا بڑا کھڑاک۔۔۔ اہم سیاسی شخصیات کے خلاف بڑی کارروائی ڈال دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نیب نے سینیٹر سیف اللہ بنگش، سابق وفاقی وزیر تنویر گیلانی اور سابق قائم مقام وائس چانسلر اردو یونیورسٹی سلیمان ڈی محمد کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس منعقد ہوا

جس میں کئی فیصلے کئے گئے ۔اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ بنگش، سی ڈی اے انتظامیہ اور دیگر کے خلاف اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میںشادی ہال کے کمیونٹی پلاٹ پر کمرشل پلازہ تعمیرکرنے ، سی ڈی اے بلڈنگ بائی لاز قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور سی ڈی اے افسران کی غیر قانونی کمرشل پلازہ کی تعمیر کے دوران مبینہ خاموشی کانوٹس لیتے ہوئے شکایات کی جانچ پڑتال کا ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی کو حکم دیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جنرل ضیاء کے دور میں شاہ شمس روڈ پر انجمنِ اسلامیہ ملتان کو قیمتی زمین فلاحی کاموں کیلئے الاٹ کی گئی جس پر شروع میں انجمنِ اسلامیہ ملتان اور ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا گیاجس کو بعد میں نقصان ظاہر کرتے ہوئے بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں سید تنویر حسین گیلانی ، سابق وفاقی وزیر نے مذکورہ اراضی نہ صرف اپنے ذاتی مصرف میں رکھی بلکہ پھر اس کو مبینہ طور پرغیر قانونی کمرشل استعمال کیلئے پرائیویٹ لوگوں کو دے دی۔ پرائیویٹ لوگوںنے اس پر نہ صرف 2شادی ہال اور ایک سکول تعمیرکیا جن کا کرایہ غیر قانونی طور پر مذکورہ سابق وزیرنے وصول کیا۔اجلاس میں چئیرمین نیب نے سید تنویر گیلانی ، سابق وفاقی وزیر اور سابق صدر

انجمنِ اسلامیہ ملتان کے خلاف مبینہ شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے جانچ پڑتال کا ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان کو حکم دیا ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلرسلیمان ڈی محمد نے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے ادارے میں نہ صرف گریڈ 17 اور گریڈ18 میں بھرتیاں کیں بلکہ عدنان اختر جونیئرکلرک کو گریڈ 7 سے گریڈ 20 کا چارج دیتے ہوئے ڈائریکٹر پروٹوکول بنا دیا ۔سلیمان ڈی محمد پر سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری حاصل کرنے کا بھی مبینہ الزام ہے جس کی ڈی جی نیب کراچی کو جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ کرپشن کے حوالے سے جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر انوسٹی گیشن ونگ ناصر رضا کی جانب سے لکھے گئے خط کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ’’نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت مجاز اتھارٹی نے ملزمان (جنرل (ر) مشرف اور دیگر) کی جانب سے کیے جانے والے جرائم کا نوٹس لیا ہے۔‘‘ 27؍ مارچ 2018ء کو جاری ہونے والے خط میں کرنل (ر) انعام الرحیم کو مخاطب کیا گیا تھا جن کی دائر کردہ پٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو ہدایت کی تھی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف ان کی مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کارروائی شروع کی جائے۔ (ذ،ک)


Top