بیٹی پر سرعام تشدد : کراچی میں پیش آنے والے واقعہ کے پس پردہ کہانی کیا نکلی؟

کراچی (ویب ڈیسک) جہانگیر آباد میں سگی بیٹی پر سرعام تشدد کرنے کے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ گرفتار ملزم دالدار کے خلاف درج کیا گیا،مقدمے کے متن میں خاتون نے موقف اختیار کیا ہے 4فروری کو میری 13سالہ بیٹی فاطمہ مجھےتنگ کر رہی تھی جس پر میں نے اپنے سابقہ شوہر

دلدار بھٹی کو فون کر کے شکایت کی ایک گھنٹے بعد دلدار بھٹی گھر آیا اور آتے ہی فاطمہ کو بیدر دی سے مارنا شروع کر دیا ،متن کے مطابق میرے بڑے بھائی کے چھوٹے بیٹے نے واقعہ کی ویڈیو بنا کر وائرل کردی ،متن کے مطابق سابقہ شوہر کےجنون کے ڈر سے میں رپورٹ کرنے نہیں آئی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد رضویہ تھانے کے ایس ایچ او نے ملزم اور واقعے کی جگہ کی نشاندہی کے لیے عوام سے مدد مانگی تھی۔ وڈیو کسی محلے دار نے گھر کی چھت سے بنائی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے دلدار اپنی بیٹی کو محلے والوں کے سامنے بے دردی سے مار رہا ہے اور لڑکی اس سے جاں بخشی کے لیے منتیں کر رہی تھی۔ لڑکی کو مار کھاتا دیکھ کر محلے داروں نے معاملے میں بیچ بچاؤ کی کوشش کی۔ ایس ایس پی سینٹرل اسلم راؤ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق لوگوں کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی مدد سے پولیس نے ملزم دلدار کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا ہے۔اس حوالے سے تھانہ رضویہ کے تفتیشی افسر انسپکٹر امتیاز احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس اس لڑکی کو ڈھونڈ رہی تھی جو اپنے گھر میں نہیں تھی۔ انسپکٹر امتیاز نے بتایا کہ پولیس نے لڑکی کو ڈھونڈ لیا ہے اور اس وقت اسے پولیس سٹیشن لایا جا رہا ہے جہاں پہ اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا جس کی روشنی میں ملزم دلدار کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔تفتیشی افسر کے مطابق ابھی تک اس واقعے کی باضابطہ شکایت درج نہیں ہوئی اسی لیے مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا اور لڑکی کے بیان کا انتظار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کی جانب سے شکایت درج کروانے سے انکار کی صورت میں پولیس کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلے۔