اسحاق ڈار کی رہائش گاہ ’ سرکاری پناہ گاہ ‘ میں تبدیل۔۔۔!!! عالیشان عمارت کے دروازے مزدوروں اور غریبوں کے لیے کھول دیئے گئے

لاہور(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر نے پناہ گاہ میں بیڈز لگوائے اور محکمہ سوشل ویلفیئر نے رہائشگاہ پر پناہ گاہ کا بورڈ آویزاں کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی حکومت لاہور نے ن لیگی

رہنماء اسحاق ڈار کی گلبرگ میں واقع رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔اسحاق ڈار کی گلبرگ میں رہائشگاہ ہجویری ہاؤس 4 کنال 17مرلے پرواقع ہے۔ پناہ گاہ کے فیصلے کے بعد محکمہ سوشل ویلفیئر نے رہائشگاہ پر پناہ گاہ کا بورڈ آویزاں کردیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے پناہ گاہ میں بیڈز ، میز کرسیاں اور ڈائننگ ٹیبل بھی لگوا دیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ضلعی حکومت نے 28 جنوری کو اسحا ق ڈار کی رہائشگاہ کی نیلامی کرنا تھی لیکن عدالت نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر حکم امتناع جاری کردیا تھا، عدالتی حکم پر رہائشگاہ کی نیلامی روک دی گئی تھی۔واضح رہے کہ چار کنال سترہ مرلے کے رقبے پر مشتمل اسحاق ڈار کے بنگلہ کی بولی کی مالیت 18 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بولی میں شرکت کیلئے کوئی شہری وہاں نہ آیا۔ تاہم اب ضلعی حکومت نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے ساتھ ملکرشام کو رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اب وہاں پناہ گاہ کا باقاعدہ بورڈ آویزاں کردیا گیا ہے۔ ن لیگی رہنماء عطاء اللہ تارڑ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ حکم امتناعی کی موجودگی میں رہائشگاہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اسحاق ڈار سے بات ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ وکلاء سے مشاورت جاری ہے۔ عدالتی حکم امتناع کی موجودگی میں حکومت کیسے رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرسکتی ہے۔