محمد بِن سلمان واقعی شہزادے نکلے۔۔۔!!! عمران خان سے اپنی بات تو منوا لی مگر جب اپنا وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو سعودی ولی عہد نے کیا کر دیا؟ پورا پاکستان مایوس

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر او آئی سی وزراء کے اجلاس کی حمایت سے گریزاں ہے۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے کونسل برائے وزرائے خارجہ اجلاس کی تیاری کے لیے جہاں سینئر حکام کا اجلاس 9 فروی سے شروع ہو رہا ہے وہیں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب،

کشمیر کے معاملے پر فوری طور پر سی ایف ایم کا اجلاس بلانے کی پاکستان کی درخواست قبول کرنے سے گریزاں ہے۔او آئی سی کی جانب سے اجلاس طلب نہ کیے جانے پر پاکستان کی تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے دورے کے دوران تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ہے کہ ہماری کوئی آواز نہیں ہے،ہم تقسیم ہو چکے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی میں ہم آواز بھی نہیں ہو سکتے۔پاکستان اقوام متحدہ کے بعد دوسرے بڑے عالمی فورم مسلم ممالک کے 57 رکنی بلاک میں گذشتہ سال اگست کے مہینے میں بھارت کے کشمیر سے الحاق کے بعد سے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔اس کے بعد نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے کلاس کی سائیڈ لائنز میں کشمیر پر رابطہ گروپ کا اجلاس منعقد ہو چکا ہے تاہم آو آئی سی کی خودمختار مستقل انسانئ حقوق کمیشن کی جانب سے بھارتی قابض کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر رپورٹ کے باوجود سی ایف ایم اجلاس کے لیے کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی۔اس سے قبل ذرائع نے بتایاکہ پاکستان کے کوالا لمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلہ کے بعد سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم کو کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب, متحدہ عرب امارات, بحرین, ترکی, انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک کی شرکت متوقع تھی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا وزراے خارجہ اجلاس کولالمپور سمٹ کے بعد خصوصی حیثیت اختیار کر گیا تھا،سعودی عرب نے حالیہ کامیاب کولالمپور سمٹ کے بعد او آئی سی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ذرائع نے بتایاکہ سعودی وزیر خارجہ نے حالیہ دورے میں وزیراعظم کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا تھا ، ذرائع کے مطابق او آئی سی کے کم فعال کردار پر ملائشیاء، ترکی، انڈونیشیا،قطر، ایران، شام، یمن اور لبنان سمیت متعدد مسلم ممالک کو تحفظات ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہی تحفظات کے باعث کولالمپور سمٹ کو متبادل پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔