حکومت پنجاب کی جانب لیگی حکومت کانام نشان ختم کرنے کا فارمولا تیار۔۔۔ عثمان بزدار نے شہباز شریف کو اب تک کا سب سے بڑا سرپرائز دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے میں چلنے والی 30 کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ پنجاب میں کل 71 کمپنیاں قائم کی گئی تھیں، 30 کمپنیوں کو غیر ضروری ہونے کی وجہ سے بند کیا جا رہا ہے۔شہباز شریف دور میں مختلف محکمہ

جات کے امور چلانے کے لئے کمپنیز تشکیل دی گئیں تھی،ان کمپنیز میں بیوروکریسی میں سے ہی افسران بھاری تنخواہوں پر بھرتی کئے گئے تھے لیکن تحقیقات کے بعد بہت سی کمپنیز میں بد انتظامی اور بد عنوانی پائی گئی تھی۔بزدار حکومت نے ان کمپنیز کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ڈاکٹر سلمان شاہ کی زیر صدارت کمیٹی بنائی تھی جس نے تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد سفارشات مرتب کی تھیں۔ان سفارشات کی روشنی میں 71 میں سے 30 کمپنیز کو مکمل طور پر بند کرنے، 36 کو جاری رکھنے اور چار کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔عثمان بزدار نے کہا کہ کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ان کے مطابق پچھلے دور میں غیر ضروری کمپنیاں بنا کر پنجاب کے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، آج وہ لوگ معصوم شکل بنا کر گڈ گورننس کے دعویدار بنتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے انکشاف کیا ہے کی وزیراعظم کی ہدایت پر خفیہ ایجنسیاں وزیروں کی رپورٹس تیار کرتی ہیں۔۔ہم سب انڈر ریڈار ہیں، آئی بی بھی ہمیں دیکھ رہی ہے اور آئی ایس آئی بھی ہمیں دیکھ رہی ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیراعظم عمران خان آئی بی سے وزرا کی رپورٹس لیتے ہیں اور ان کو لینی بھی چاہئیں۔ کیونکہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ڈسپلن پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔۔جبکہ کرپشن کا معاملے پر بھی کسی قسم رعایت نہ برتنے کا عندیہ دیا ہے.غلام سرور خان نے کہا کہ سیلف پروجیکشن کے لیے کابینہ کے اندر کی بات باہر نہیں آنی چاہیے اور جو ایسا کرتا ہے وہ سیاسی لحاظ سے بددیانت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسے بددیانت کابینہ کے اندر موجود ہیں اور اور وہ نگاہوں سے اوجھل نہیں رہ پائیں گے.چینی اور آٹے کے بحران کے سوالات پر غلام سرور خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کاروباری شخص چینی کا بزنس نہیں کرتا۔صرف سیاست دان کرتے ہیں جس کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ سیاست دان صنعت میں آتا ہے اور ایک مخصوص صنعت میں آتا ہے اور وہی صنعت ترقی کرتی ہے۔