تبدیلی والوں کے حالات زار:20کروڑ سے زائد آبادی۔۔۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں کی تعداد محض کتنی نکلی؟ اعداد و شمار آپ کو دنگ کر ڈالے

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میں ’’سرمایہ کار بیس‘‘ مضحکہ خیز حد تک انتہائی کم ہے۔ 20 کروڑ سے زائد آبادی ہونے کے باوجود سرمایہ کاروں کی تعداد محض ڈھائی لاکھ ہے۔ تمام علاقائی مارکیٹوں میں آبادی پاکستان سے کم ہونے کے باوجود انویسٹر بیس لاکھوں، کروڑوں میں ہے۔

یہ اعداد وشمار غیر حقیقت پسندانہ لگتے ہیں تاہم اگر مارکیٹ میں بروکرز کے رویوں کو دیکھیں تو معاملہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران 27 بروکرز دیوالیہ ہوئے جس کے نتیجے میں انویسٹرز نے5 ارب روپے سے زائد کے دعوے کئے۔ ہزاروں سرمایہ کار ایسے بروکرز کے ہاتھوں اپنی پوری جمع پونجی کھو بیٹھے۔ آج سرمایہ کاروں کا کیپٹل مارکیٹ پر اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے اس کی بڑی واضح وجوہ ہیں۔ سرمایہ مارکیٹ میں بروکرز کا ایک ایسا گروپ موجود ہے جو سرکاری دولت میں سودے کرنا اور صارف کے اثاثوں کو اپنی تحویل میں رکھنا چاہتا ہے لیکن صارف کے اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور شفافیت لانے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لاتا ہے۔ چونکہ اس ضمن میں اصلاحات اس کے مذموم عزائم کے خلاف ہوتی ہے۔ ان بروکرز کو غلط کاریوں سے پیسہ بنانا ورثے میں ملا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ صارف کے اثاثوں کوضمانت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فنڈز حاصل کریں اور اپنے کلائنٹس کی جانب سے غیر قانونی سرمایہ کاری میں استعمال کریں جس سے اپنے اثاثوں کو دائو پر لگائے بغیر غیرمعمولی منافع کمایا جائے۔ وہ ’’ڈبہ‘‘ اکائونٹس کے عمل سے کئی کلائنٹس کا ایک اکائونٹ رکھتے ہیں۔ سی جی ٹی حاصل کرتے لیکن کٹوتی کلائنٹ سے کرتے اور دوبارہ بھاری منافع حاصل کرتے ہیں۔

کوئی بھی صنعت یا کاروبار زیرو پرائسنگ پر نہیں چل سکتا لیکن اکثر بروکرز اپنے کسٹمرز کو زیرو کسٹڈی کی پیشکش کرتے ہیں۔ کم از کم بروکریج کمیشن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس سے غیرقانونی کاروبار اور غلط کاریوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں دیگر بروکرز بھی ہیں جو خاندانی کاروباری کی طرح کام کرتے ہیں جن کا کوئی کارپوریٹ ڈھانچہ یا نگراں بورڈ نہیں ہوتا۔ جو مالی اداروں کے لئے بنیادی ضرورت تصورکی جاتی ہے۔ جو پبلک پیسے میں معاملہ کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ منڈیوں کا ارتقاء ہوا۔ مالی ادارے دیوالیہ اور ناکام ہوئے جس نے مناسب چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ جس سے کمپلائنس ضروریات پوری دنیا میں نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔ ایک اور اہم بات اے ایم ایل/سی ایف ٹی کا خطرہ ہے جو سخت کمپلائنس ضروریات کی صورت ظاہر ہوا۔ دوسرا اہم زاویہ سرمایہ مارکیٹوں کا مسلسل وجود میں آنا ہے۔ ٹیکنالوجی میں ترقی نے سنہرے مواقع فراہم کئے لیکن نئے خطرات بھی ابھر کر سامنے آئے۔ مذکورہ تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بروکریج ہائوسز جو صارف اثاثوں پر کام کرتے ہیں انہیں کمپلائنس سسٹم میں نمایاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ آئی ٹی انفرا اسٹرکچر کے ذریعے انویسٹرز اور ریگولیٹرز کو مناسب سہولتیں پہنچانا ہوں گی۔

ان کے پاس ایسا سسٹم ہو جو صارف اثاثوں کا تحفظ یقینی بنا سکے تاہم ان بروکریج ہائوسز نے تبدیل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے وہ رپورٹنگ کی ضرورت سے گریز کرتے ہیں۔ کام کی تکمیل کے لئے مناسب پروفیشنلز کی خدمات حاصل نہیں کرتے۔ اپنے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کا وجود برداشت نہیں کرتے۔ کارکردگی بہتر بنانے کے لئے آئی ٹی انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ وہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی سے کسی قسم کی ریٹنگ بھی نہیں چاہتے کیونکہ کنٹرول اسٹرکچر سسٹم میں تمام خامیاں اور کمزوریاں نمایاں ہو جائیں گی۔ ان کے پاس خاطرخواہ اکائونٹنگ عملہ بھی نہیں ہوتا جو آئی ایف آر ایس کی توثیق کے ساتھ فنانشل اسٹیٹمنٹس تیار کرے۔ اس قدر کمزور انفرا اسٹرکچر اور عملے سے آج کل کے ماحول میں بقاء کی کیونکر توقع کی جا سکتی ہے اور کسٹمر اثاثوں کی تحویل کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات تصور سے بالاتر ہے۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے ایس ای سی پی نے بروکر درجہ بندی کے ذریعے اصلاحات کا عمل شروع کیا جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ جن بروکرز کی مناسب صلاحیت ہے انہیں صارف اثاثوں کو تحویل میں رکھنا چاہئے۔ جن بروکرز کا سرمایہ محدود اور وہ استعداد بڑھانا بھی نہیں چاہتے انہیں مختلف آپشن دیئے گئے کہ وہ بڑے بروکرز کو اپنی تحویل میں اثاثے منتقل کر دیں۔