بریکنگ نیوز: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیداحمد مستفعیٰ؟ سپریم کورٹ سے آنے والی خبر نے پی ٹی آئی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ریلوے کی بہتری چاہتی ہے،اگر عدالت عظمیٰ نے کہا تو میں وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا ،وزیر اعظم عمران خان عوامی مفاد پردوستی کوفوقیت نہیں دیتے،اگر کوئی ایسا شخص عوامی مفاد میں رکاوٹ بنا تو عمران خان اپنی دوستی کو نہیں دیکھیں گے،

وزیر اعظم عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھاکہ ہمیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے،17 ماہ میں عمران خان نےاتنی مشکلات دیکھیں کہ وہ اب حالات قابوکرناجان چکےہیں،اصل مسئلہ معیشت کی بحالی ہے،ملک میں منہگائی سےعوام میں جو پیغام گیاوہ حکومت کے لیے مثبت نہیں ہے،حکومت کو ہر حال میں مہنگائی پر قابو پانا ہو گا اور میں نےوزیر اعظم سے اس سلسلہ میں آج بھی بات کی ہے ،وزیر اعظم کی مہربانی ہے کہ وہ میری بات بڑے غور سے سنتے ہیں ۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چین ایم ایل ون کے ساتھ ہے،ساراسی پیک ریلوے کاتھا،ایم ایل ون کی تکمیل کے لئے مجھے اسد عمر پر بھروسہ ہے،بیوروکریٹس نیب کی وجہ سے کسی معاملے میں ہاتھ نہیں ڈالتے،سپریم کورٹ ریلوے کی بہتری چاہتی ہے،اگر مجھے سپریم کورٹ استعفے کا کہتی ہے تو استعفا دے دوں گا۔واضح رہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ،شیخ رشید نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ۔ادھر وزیراعظم نے وزیراعظم نے مہنگائی ختم نہ ہونے پر معاشی ٹیم پر بھی برہمی کا اظہار کیا ۔ وفاقی وزیر ریلوے نے وزیراعظم سے کہا کہ سپریم کورٹ میں مجھ سے بڑے سخت سوالات کیے گئے، میری تضحیک بھی کی گئی۔شیخ رشید نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، ایگزیکٹو امور میں عدالتی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔وزیر اعظم نے جواب میں کہا کہ شیخ صاحب، ہمیں عدلیہ کا احترام کرنا ہے، ساتھ مل کر کام کرنا ہے، ہمیں عدالت کو اس کے سوالات پر مطمئن کرنا ہے۔ وزیراعظم نے مہنگائی ختم نہ ہونے پر معاشی ٹیم پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہی، مس گائیڈ کیا جارہا ہے، معاشی ٹیم میں شامل پانچوں وزرابیٹھیں اور مہنگائی بڑھنے کی وجوہات پر مطمئن کریں۔