خیبرپختونخوا 3 وزرا فارغ۔۔۔ لیکن دراصل یہ تینوں عمران خان کے خلاف کیا سازش کر رہے تھے؟ سینئر صحافی نے بڑا دعویٰ کردیا

پشاور (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کابینہ کے 3 اراکین کو فارغ کردیا گیا اور حکومتی ذمہ داران نے بتایا کہ یہ اراکین وزیراعلیٰ کیخلاف سازش کررہے تھے ، بعدازاں عمران خان نے کابینہ کے دیگر اراکین کی بھی کارکردگی رپورٹ طلب کرلی، اب سینئر صحافی صابر شاکر نے لکھا کہ “وزیراعظم خان کو ڈیووس میں ہی صورتحال

سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ عاطف خان‘ شہرام ترکئی اور شکیل احمد مل کر وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف منظم منصوبہ بندی کررہے ہیں اوردیگر ارکان کو بھی بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔باغی گروپ کے رہنماؤں نے تقریباً بیس سے زائد ارکانِ کے پی کے اسمبلی کو کھانے کی دعوت پر بلایا‘ لیکن چند ارکان نے شرکت کی “۔ روزنامہ دنیا میں انہوں نے لکھا کہ “سوئٹزرلینڈ سے وطن واپسی پر وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر اور اپنی صوبائی حکومتوں‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ‘کے خلا ف سیاسی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑااور انہیں سب سے پہلے لاہور اور پھر کراچی کے ہنگامی دورے پر جانا پڑا۔وزیراعظم خان کو ڈیووس میں ہی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ عاطف خان‘ شہرام ترکئی اور شکیل احمد مل کر وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف منظم منصوبہ بندی کررہے ہیں اوردیگر ارکان کو بھی بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔ باغی گروپ کے رہنماؤں نے تقریباً بیس سے زائد ارکانِ کے پی کے اسمبلی کو کھانے کی دعوت پر بلایا‘ لیکن چند ارکان نے شرکت کی اور مدعو کیے جانے والے اکثر ارکان نے باغیوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا‘نا صرف انکار کیا‘ بلکہ اکثریت نے اس کی اطلاع وزیراعلیٰ محمود خان کو اور کچھ نے براہ راست وزیراعظم کو بھی دے دی۔سول انٹیلی جنس ادارے نے بھی صوبے میں باغی ارکان کی حرکات وسکنات پر رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کی۔وزیراعلیٰ محمود خان اور پرویز خٹک نے بھی وزیراعظم عمران خان کو ایسی ہی اطلاعات دیں‘جو پہلے سے عمران خان کے پاس پہنچ چکی تھیں۔وزیراعظم کو اس بات کا کافی رنج اور غصہ تھا کہ ایسے وقت میں جب وہ ڈیووس میں صدر ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں اور بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز و محور بنے ہوئے تھے اور ان کی گورننس کی تعریفیں ہورہی تھیں‘ وہ کشمیر اورفیٹف سمیت دیگر ایشوز پر پاکستان کا مقدمہ دنیا بھر کے سامنے پیش کررہے تھے‘ ایسے میں ان کے سب سے مضبوط سیاسی گڑھ پشاور سے انہی کے انتہائی قابل بھروسہ رہنما اپنے کپتان کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے ہی وزیراعلیٰ کے خلاف بغاوت کررہے ہیں اور اتنے جلدی میں ہیں کہ ان کی وطن واپسی کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ اس لیے وزیراعظم نے عاطف خان سمیت کسی بھی باغی رکن سے ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی اور محمود خان اور پرویز خٹک کو کارروائی کا اختیار دے دیا‘ جس کے نتیجے میں وزیراعظم کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے وزرا عاطف خان ‘ شہرام ترکئی اورشکیل احمد کو برطرف کردیا گیا اور انہیں مستعفی ہونے کا آپشن بھی نہیں دیا گیا۔