تبدیلی کا جنازہ نکل گیا: ملکی بحران قابو سے باہر۔۔۔حکومت سے مزید کتنے لاکھ ٹن گندم مانگ لی گئی؟

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ حکومت نے اپنے صوبوں میں آٹے کی دستیابی کو معمول پر لا نے اور مستحکم بنانے کیلئے وفاقی حکومت سے مزید 4 لاکھ ٹن گندم کا مطالبہ کردیا ہے۔ پنجاب نے وفاق کو واضح کیا ہے کہ اگر اضافی گندم نہیں ملتی تو خیبر پختونخواہ کو پنجاب

سے یومیہ آٹا سپلائی جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں سیکرٹری فوڈ پنجاب نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاقی محکمہ پاسکو کے گوداموں میں سے 2لاکھ ٹن گندم پنجاب کو فراہم کرے کیونکہ پنجاب کے پاس اتنے وافر اسٹاکس موجود نہیں ہیں کہ وہ خیبر پختونخواہ کو یومیہ ڈیڑھ لاکھ تھیلے کی فراہمی جاری رکھے اور اپنی ضروریات بھی پوری کرے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے6 ماہ میں ٹیکس وصولی میں ساڑھے 16فیصد اضافہ ہوا، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد16لاکھ سے بڑھ کر 27لاکھ ہوگئی، ایف بی آر نے پہلے6ماہ میں95فیصد ٹارگٹ پورا کیا، درآمدات میں کمی کی وجہ سے ٹیکس میں بھی کمی ہوئی، اگر یہ کمی نہ ہوتی تو پانچ فیصد کا خسارہ بھی پورا کرلیا جاتا‘جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ضروری ہے۔پچھلے 10، 12سال میں 2فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا ۔وہ پیر کو سینیٹ میں سینیٹر کلثوم پروین کی ایف بی آر کی کارکردگی سے متعلق تحریک پر جواب دے رہے تھے ۔ حماد اظہر نے کہا کہ ماضی کے برعکس ہم نے امپورٹ پر ٹیکس وصولی کے ذریعے اپنا چھ ماہ کا ہدف حاصل نہیں کیا بلکہ اس وقت بھی اگر دیکھا جائے تو ٹیکس وصولی میں ہمیں مالی سال کے لئے 28فیصد کا اضافہ نظر آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سمیت تمام ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے، یہ ایک اچھی پیشرفت ہے۔ ہمیں ڈالر کی بچت کرنا ضروری تھی اسی لئے ٹیکس وصولی میں کچھ کمی نظر آئی۔ انٹرسٹ انکم پر چھ ماہ میں 141فیصد کے اضافے کے ساتھ 35 ارب روپے جمع ہوئے۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ٹیکس کا 50 فیصد حصہ ہے جس کو ہم 30 فیصد پر لائے ہیں۔اسٹیل کے شعبہ میں ٹیکس وصولی میں 20.8 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔