افغان صدر اشرف غنی کا ٹوئٹ۔۔۔ ترجمان دفتر خارجہ کا انتہائی سخت ترین ردِ عمل آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان نے افغان صدر اشرف غنی کے حالیہ ٹویٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے معاون نہیں ہو سکتے۔

ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ عدم مداخلت کے اصولوں کی بنیاد پر قریبی اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں۔ افغانستان اور خطے میں امن واستحکام کے مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے حوالے سے دیے گئے افغان صدر کے بیان کو غیر ضروری اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت قرار دے دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ عدم مداخلت کے اصولوں کی بنیاد پر قریبی تعلقات کا خواہاں ہے۔‘ ان کے مطابق ’ایسے بیانات دونوں ملکوں میں دوستانہ تعلقات کو فروغ دینےمیں معاون نہیں ہو سکتے ہیں۔‘ افغان صدر اشرف غنی نے پی ٹی ایم کے سربراہ کی گرفتاری کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری پر سخت تشویش ہے، وہ اس معاملے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تحفظات کی پر زور تائید کرتے ہیں اور منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اشرف غنی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس وقت ہمارا خطہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ظلم کا شکار ہے، ایسے میں خطے کی حکومتوں کو انصاف کے لیے پرامن تحریکوں کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے اور ان کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی پرامن تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔