خان صاحب : جو بندہ اپنی بیوی کا یار نہیں ہو سکتا وہ تمہارا یار کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ سینئر پاکستانی صحافی کا وزیراعظم عمران خان کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) امریکہ میں غیرملکی خصوصاً تارکین وطن پہ پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ اس نے میکسیکو اور امریکہ کی طویل ترین سرحد پہ اپنی ناگفتہ بہ حالت ہونے کے باوجود دیوار تعمیر کرانے کا اعلان کیا، اور اس انتخابی ایجنڈے کو محض دکھاوا نہیں ، بلکہ پورا کرکے دکھایا ،

نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔حالانکہ دنیا ٹرمپ کے اس اقدام پہ متفق اس لیے نہیں تھی کہ اسے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں لگتا تھا، مگر اگر حالات اس نہج پہ پہنچ جائیں کہ جو قابو سے باہر ہو جائیں، توپھر پاکستان اور افغانستان کی سرحد پہ بھی باڑ لگانی ہی پڑتی ہے، خاص طورپر اگر پاکستان جیسے زرعی ملک میں آٹے کا بحران جیسی ناقابل یقین افتاد پیدا کرنے کے لیے یہ سوچے بغیر کہ پاکستان میں بھی انسان بستے ہیں، ساری گندم سرکاری ذخائر سے بھی نکلواکر افغانستان بھیج دی جائے ، تو پھر دوشکس کو دیں گے، وزیراعظم کے ساتھ منسوب ایک نام کو، جس کے بارے میں سید مظفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ۔۔کہتے ہیں مرے نام سے برہم وہ ہوئے ہیں۔۔یہ بات ہوئی ہے، تو بہت خوب ہوئی ہے!۔۔مگرایک وقت کی روٹی سے محروم کردیئے جانے والے انسان جو کبھی تحریک انصاف کے ساتھ جڑے رہنے کو سعادت سمجھتے تھے، اور وقت کی کمی کا رونا رو کر اس درد کو قومی درد سمجھ کر جھیلنے کی تلقین کرتے تھے بلکہ یہاں تک کہتے تھے کہ۔۔صدشکر، ملا مجھ کو ترے درد کا تحفہ۔۔یہ عمر اُسی روز سے مرغوب ہوئی ہے!میں بات کررہا تھا، بظاہر مجنون نظر آنے والے ٹرمپ جیسے ”قومیت پسند“ انسان کی، جس کے ملک میں آئے روز ، ہزاروں کی تعداد میں امریکی بے روزگار ہورہے تھے، کیونکہ انہیں نوکری سے نکال دیا جاتا تھا، مگر ٹرمپ نے ایسے سابقہ دور کے بالکل برعکس امریکیوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا کیے،

اور اپنے انتخابی منشور میں دعوے نہ کرنے کے باوجود ٹرمپ نے کمال کردکھایا اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے میں نے اپنے ” امریکی قومیت“ والے بھائیوں، جن کے نام فیصل واوڈھا نہیں ، بلکہ ان کے نام محمد کلیم ساجد، اور محمد نعیم ماجد خان ہیںان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے ٹرمپ کے بارے میں ایسے حیران کن انکشافات کیے، کہ عقل دنگ رہگئی، تحریک انصاف والے بھی یقیناً یہ جان کر ”پریشان“ ہو جائیں گے، کہ امریکی عوام ان سے بے حد خوش ہیں، اور ہر شخص اس کی تعریف کرتا نظر آتا ہے، کیونکہ امریکہ کے معاشی حالات، اور اقتصادی ترقی، آسمانوں کو چھوتی نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس وقت امریکہ کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں سب سے زیادہ بلند ترین سطح پہ پہنچ گئی ہے، ٹرمپ نے لاکھوں بے روزگاروں کو نہ صرف روزگار فراہم کیا ہے، بلکہ امریکہ میں بے روزگاری ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی عوام نے ایک دفعہ پھر صدر ٹرمپ کو منتخب کرلینا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے یوٹیلیٹی بل گیس اور بجلی کی قیمتیں بہت ہی کم کردی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی عوام بہت خوش ہیں۔ ایک اور بات جس کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی، صدر ٹرمپ کو اپنی آرمی کا بہت زیادہ خیال ہے، آرمی کو ہرممکن مراعات اور سہولیات دینے کی مسلسل کوشش کی ہے، قارئین آپ کو یہ جان کر حیران کن بلکہ پریشان کن حیرانگی ہوگی کہ صدر ٹرمپ دنیا میں ہر جگہ جنگ کے خلاف ہیں، جس کی جھلک آپ کو افغانستان، شام، لبنان وغیرہ میں سے افواج کو کم سے کم حدرکھ کر باقی نکالنے کی صورت میں نظرآتی ہے اس دوران ٹرمپ کو متعدد مواقع ملے کہ وہ جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا دے مگر اس نے اس سے اجتناب کیا۔ایک اور بات بھی جو شاید پاکستانی عوام کو اچھی نہ لگے، مگر صدر ٹرمپ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی اپنی پسند کے مطابق بناتے ہیں، یہ ساری باتیں جو انہیں دوسرے حکمرانوںسے ممتاز کرتی ہیں، کسی آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ شخص نے نہیں بنائیں بلکہ صرف ایک گریجویٹ انسان نے بنائی ہیں، اس کی واضح اور بین مثال یہ ہے کہ پچھلے سال سے ٹرمپ ہمارے وزیراعظم کو گولی دے رہے ہیں کہ میری مقبوضہ کشمیر پہ پوری نظر ہے کیا عمران خان ان سے پوچھ سکتے ہیں ، کہ مقبوضہ کشمیر پہ خاک تمہاری نظر ہے کہ جہاں تمہارے آتے ہی دنیا کا طویل ترین کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، صرف اس لیے کہ تم ہمارے وزیراعظم کو بھی کہتے ہو کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا دوست ہے، اور یہی بات ٹرمپ مودی سے کہتے ہیں کہ امریکہ ہندوستان کا سب سے زیادہ دوست ہے، اس حوالے سے قارئین جناب مجید نظامی صاحب نے بے حد پتے کی بات کی تھی،یہ امریکی صدر اپنی بیوی کے ” یار “ نہیں ہوتے تو ہمارے یار کیسے ہوسکتے ہیں ؟ بے شک امریکہ کے ہر صدر کو دیکھ لیں۔(ش س م)