! پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا اقدام، عمران حکومت کیا کرنے جا رہی ہے؟

لاہور( نیوز ڈیسک) حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے 25 جنوری سے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ مہم 25 جنوری سے 5 فروری تک جاری رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزراء اور مشیران کے ہمراہ دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے

کہا کہ کشمیر سے متعلق عالمی رائے پاکستان کے موقف سے مطابقت رکھتی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 25 جنوری سے مسئلہ کشمیر سے متعلق مہم شروع کی جائےگی، جس کے دوران مسئلہ کشمیر کو میڈیا، اندرونِ ملک سمیت دنیا بھر میں اجاگر کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ملک بھر کی آرٹ گیلریز میں مسئلہ کشمیر سے متعلق تصویری نمائشیں بھی منعقد کی جائیں گی۔بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بیرون ملک مشنز وہاں کے عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے آگاہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی تمام تر مخالفت کے باوجود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 175روز سے لاک ڈاؤن ہے، 80 لاکھ سے زائد افراد مقبوضہ وادی میں محصور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام بنیادی حقوق سلب کیے گئے، لوگ عملاً قیدی ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں، ہندوتوا کے نظریے کی حامل قیادت بھارت پر حکمرانی کر رہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کی آواز اجاگر کی گئی، عالمی تنظیموں کی طرف سے بھی اب مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر سے متعلق عالمی رائے پاکستان کے موقف سے مماثلت رکھتی ہے۔لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی سے متعلق بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے فائر بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں سر فہرست کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا گیا جبکہ عمران خان نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر کی نوعیت اور پیچیدگی کے بارے میں بتایا۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ یو این سیکریٹری جنرل کو تفصیل سے بھارت کی سیز فائر خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سلامتی کونسل میں سیزفائر کی خلاف ورزی، مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن اور دیگر مسائل پر بات چیت کی گئی جبکہ سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے بریفنگ میں حصہ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بھارت کے غیرقانونی اقدامات کو عالمی سطح پر لے کر آئے ہیں۔وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت دنیا سےجھوٹ بول رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سےعالمی برادری کومسلسل آگاہ کیا جارہا ہے۔