ہم صاف صاف بتا رہے ہیں ، آپ کے لیے کوئی پریشانی کھڑی نہیں کرنا چاہتے مگر ۔۔۔۔ چوہدری مونس الٰہی نے حکمران جماعت کو کھلا پیغام بھجوا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ(ق) کے ساتھ کیے گئے وہ وعدے پورےکرنا شروع کردیئے ہیں جوتعلقات کو برقرار رکھنے کے لئےہیں۔ پی ایم ایل (ق) کے سینئر رہنما نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالات ٹھیک ہورہے ہیں اور تعلقات میں موجود خلا پُرہو رہا ہے۔

نامور صحافی طارق بٹ جنگ میڈیا گروپ کیلئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔۔اگر موجودہ سوچ برقراررہی تو زیادہ تر مسائل جن سے تعلقات خراب ہوتے ہیں انھیں حل کرلیاجائےگا۔ ان کےمطابق وفاقی حکومت نے پی ایم ایل(ق) کی جانب سے تجویز کردہ افسران کواُن شہروں میں تعینات کرنا شروع کردیاہےجہاں ان کے نمائندے 2018 کاالیکشن جیتے تھے۔ دی نیوز کے رابطہ کرنے پر پی ایم ایل(ق) کےرہنماچوہدری مونس الہٰی نے امید ظاہر کی کہ تعلقات تیزی سے بہتر ہورہےہیں۔ انھوں نے کہاکہ ان کی پارٹی حکمران اتحاد کی اتحادی ہےاوراس کیلئے کوئی مشکل کھڑی کرنا نہیں چاہتی۔تاہم پی ایم ایل (ق) کے دیگر رہنما کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہٰی کے درمیان کشیدگی پہلے کی طرح ہی موجود ہے۔ دونوں کے درمیان ایک ملاقات کرانے کی کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔ کافی عرصے سے وہ ملے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ان کے ملنے کا کوئی پلان ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام فضل کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دیےگئے دھرنے میں ایک موقع پر انکشاف کیاکہ گجرات کے چوہدریوں نے یہ دھرنا سپونسر کیاتھا اور اس کی فنڈنگ بھی کی۔ تاہم اسی ملاقات میں ایک اور طاقت ور رہنما نے اس کی تردید کی اور کہاکہ یہ معلومات غلط ہیں۔ جو کچھ ملاقات میں ہوا وہ پرویز الہی نے بھی بتایا۔ انھوں نےاس پر پریشانی کا اظہار کیا۔ ایک اور موقع پر اثرورسوخ رکھنےوالے رہنما نے ملاقات میں پرویزالہٰی پر زور دیاکہ فضل الرحمٰن کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگونہ کریں کیونکہ فضل الرحمٰن کو میڈیا کی غیرضروری توجہ مل رہی ہے۔ تاہم انھیں بتایاگیاکہ کسی بھی حالت میں دھرنے کو بہت زیادہ کوریج ملے گی

کیونکہ یہ واقع الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی جانب سے رپورٹنگ کے قابل ہے۔ ان سب باتوں کے بعد ان کی واپسی پر سپیکرنےاپنے ساتھیوں کو ملاقات میں ہونے والی باتوں کے بارے میں بتایا۔ ان کے پارٹی لیڈرز نے انھیں بتایاکہ یہ فضل الرحمٰن کی کوریج کامعاملہ نہیں بلکہ بطوراثروسوخ والے رہنما پرویز الہٰی کی عوامی شہرت حاصل کرنے کاہے۔ اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ کسی بھی وفاقی شخصیت نے پی ایم ایل (ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین کی عیادت نہیں کی جب وہ علاج کے بعد جرمنی سے واپس آئے، وہ کافی زیادہ بیمارتھے۔ دوسری جانب وہ کہتے ہیں کہ سخت سیاسی حریفوں نےچوہدریوں کو ٹیلی فون کرکےچوہدری شجاعت سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ انھوں نے کہاکہ مختلف سیاسی پارٹیوں میں ہونے کے باوجودچوہدری شجاعت حسین کے فضل الرحمٰن اور ان کے والدکےساتھ تعلقات ہیں۔ حکومت کی طرف سے قبولیت کےباعث چوہدریوں نے جے یوآئی (ف) کے سربراہ سے بات کی۔ جب کچھ وفاقی وزراءنے امن کی کوششیوں کو خراب کرنے کی کوشش کی تو پرویز الہٰی مذاکرات کے عمل کو ختم کرکے اسلام آبادسے لاہور آگئے۔ پرویز الہٰی کو پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ بنانے کےسے متعلق پی ایم ایل(ن) کی پیش کش کے بارے میں پی ایم ایل(ق) کے اندرونی ذرائع کے بتایاکہ پی ایم ایل(ن) صرف حکمران اتحاد کو توڑنے کیلئے دانہ ڈال رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ کچھ رہنما جنھوں نے پی ایم ایل(ق) کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی وہ اکثر دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پی ایم ایل(ق) کو پتہ ہے کہ وفاقی حکومت وعدے پورے کرنےپر رضامند ہے، جو اتحاد بناتے وقت تحریری طورپرلکھے گئے تھے۔ انھوں نے کہاکہ جب تمام پارٹیاں ایک ہی طرح کےتحفظات کااظہار کررہی ہیں توقدرتی طور پر سینئر پارٹنرز پر دبائو ہے۔تاہم انھوں نے زوردیاکہ تعلقات کو بہترکرنے کیلئے ثابت قدمی دکھاناہوگی۔ پی ایم ایل(ق) کوپنجاب حکومت کی جانب سے بنائے گئےمقامی حکومت کے قانون پرسنجیدہ اعتراضات ہیں اور یہ برقراررہا تو ان کا آئندہ ہونےوالے لوکل کونسل الیکشن میں پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں رہے گا۔