نئے پاکستان میں اندھا قانون۔۔۔!!! خانیوال کا ایس ایچ او لڑکی کے انکار پر اسکے گھر جا پہنچا

خانیوال(نیوز ڈیسک) پنجاب کے ضلع خانیوال میں غیراخلاقی حرکت سے انکار کرنے پر ایس ایچ او نے لڑکی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق خانیوال کے علاقے مخدوم پور میں غیراخلاقی حرکت سے انکار پر ایس ایچ او ظفر اقبال نے لڑکی کے گھر پر دھاوا بول دیا، ڈی پی او خانیوال نے واقعے کا نوٹس لےلیا۔لڑکی نے

الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایچ او نے تعلقات قائم کرنے کا کہا، ماں کے سامنے ڈانس کی فرمائش کی اور انکار پر تشدد کیا۔متاثرہ لڑکی صائمہ کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او گھر سے نقدی، زیورات بھی چوری کرکے لے گئے۔متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے خلاف کوئی ایکشن لیا تو وہ حشر کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او لڑکی کو دو ماہ سے تنگ کررہا تھا، غلط قسم کے پیغامات، ویڈیوز کے ذریعے لڑکی کو دوستی کرنے کے لیے کہا جارہا تھا۔ اس واقعے پر ڈی پی او خانیوال فیصل شہزاد کا کہنا ہے کہ ایس ایچ اومخدوم پور ظفر موہانی کو معطل کر دیا گیا ہے اور اعلیٰ سطح کی انکوائری ٹیم کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ خاتون کو ہراساں کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف جلد از جلد بھرپور کاروائی کی جائیگی۔ ویڈویو دیکھیں

گزشتہ کئی روز سے پولیس گردی کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل لاہور شہر کی ایک مقامی مارکیٹ کے تاجروں نے احتجاج کے نام پر زبردستی میٹرو بس سروس اور روٹ بند کروا دیا تھا۔ میٹرو بس سروس بند ہو جانے سے شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا تھا۔پولیس کی جانب سے شہر کی ایک مقامی مارکیٹ کے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد مارکیٹ کے تاجر احتجاج کیلئے سڑکوں پر آگئے تھے۔
تاجروں نے مارکیٹ کے قریب واقع میٹرو بس اسٹیشن اور روٹ کو زبردستی بند کروا دیا تھا، جس کے باعث پورے روٹ پر میٹرو بس سروس کو بند کرنا پڑ گیا تھا۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی مارکیٹ میں ڈیوٹی پر تعینات ایک سول گارڈ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ تاجروں کا مطالبہ تھا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر ان کا احتجاج جاری رہے گا۔